انوارالعلوم (جلد 16) — Page 439
انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب پڑھتا ہوگا وہ قیامت کے دن مُجرم ہوگا۔اگر تم باجماعت نماز نہیں پڑھوگی تو اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہے گا کہ تم مجرم ہو اگر تم نماز باجماعت پڑھو گی تو مردوں سے اچھی ہوگی وہ دوسروں سے تمہیں زیادہ ثواب دے گا لیکن مرد اگر باجماعت نماز نہ پڑھے گا تو باوجود اس کے کہ وہ وقت خرچ کرے گا دعا کرے گا خدا کے حضور اُسے کہا جائے گا تمہاری نماز ناقص رہ گئی۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جہنم میں جائے گا ہو سکتا ہے کہ اُس کی دوسری نیکیاں اس قدر ہوں کہ وہ اس گناہ کو ڈھانپ لیں اللہ تعالیٰ کے ہاں تول ہوتا ہے نیکیوں کا مقابلہ ہوتا ہے بعض بدیاں ایسی ہیں کہ وہ اکیلی جہنم میں لے جاتی ہیں مثلاً شرک ، اللہ کا انکار، اس کے فرشتوں کا انکار، حشر نشر کا انکار، قیامت کا انکار ، رسول پر ایمان نہ لانا، خدا کی کتاب کا انکار یہ ایسی بدیاں ہیں جو اکیلی جہنم میں لے جاتی ہیں یہ بڑے بڑے پہاڑ ہیں ان کے مقابلہ میں تمہاری نیکیاں چھٹانک چھٹانک کی رہ جاتی ہیں۔ان کے علاوہ کچھ اور بدیاں ہیں جن کا نیکیوں سے مقابلہ کیا جائے گا ، وزن کیا جائے گا ہستی سے نماز پڑھنا، چغلی، غیبت وغیرہ ، یہ ایسی بدیاں ہیں جن کا مقابلہ کیا جائے گا کسی نیکی کے زیادہ ہو جانے سے انسان جنت میں جا سکتا ہے لیکن اگر رسول کا انکار کرے تو پھر جنت میں نہیں جا سکتا خدا تعالیٰ رحیم ہے اگر وہ چاہے تو سب گناہگاروں کو معاف کر دے باقی قانون یہی ہے۔تو ایک گناہ وہ ہیں جن کا پلڑا بھاری رہے گا دوسرے وہ جن کا نیکیوں سے مقابلہ کیا جائے گا اگر نیکیوں کی روح بڑھی ہوئی ہو تو خدا تعالیٰ جنت میں لے جائے گا اگر بدیوں کی روح بڑھی ہوئی ہو تو خدا تعالیٰ جہنم میں لے جائے گا۔باجماعت نماز مردوں کے لئے فرض ہے اگر مرد نہیں پڑھے گا تو اُس کا گناہ لکھا جائے گا اور اُس کا نمبر کٹ جائے گا لیکن اگر تم جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتیں تو گناہ نہیں ہو گا لیکن باجماعت نماز پڑھوگی تو ثواب ہوگا۔اگر تم کہو کہ باجماعت نماز پڑھنے کو دل تو بہت چاہتا ہے لیکن چونکہ ہمارے ہاں کوئی جماعت نہیں اس لئے ہم باجماعت نماز نہیں پڑھ سکتیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو کام جماعت کے ساتھ ہوتے ہیں اگر تم اُن کی نیت کر لو گی تو تمہیں اُتنا ہی ثواب ملے گا کیونکہ تمہارا دل تو چاہتا ہوگا تمہاری خطا تو نہ ہوگی سامانوں کی خطا ہوگی۔خدا کہے گا کہ اس کی نیت نیک تھی قصور مال میسر نہ ہونے کا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ کسی بندے کے ساتھ جیسا سلوک کرتا ہے گویا وہ میرے ساتھ کرتا ہے ، اگر اُس نے میرے بندوں کو روٹی کھلائی تو گویا اُس نے مجھے کھلائی ، اگر اُس کے