انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 438

انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب ابو ہریرہ کی اولاد کہاں ہے ، مکان کہاں ہیں؟ لیکن ہم جنہوں نے نہ ان کی اولاد دیکھی، نہ مکان دیکھے، نہ جائداد دیکھی ہم جب اُن کا نام لیتے ہیں تو کہتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔چند دن ہوئے ایک عرب آیا اُس نے کہا کہ میں بلال کی اولاد میں سے ہوں اُس نے معلوم نہیں سچ کہا یا جھوٹ مگر میرا دل اُس وقت چاہتا تھا کہ میں اس سے چمٹ جاؤں کہ یہ اُس شخص کی اولاد میں سے ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اذان دی تھی۔آج بلال کی اولاد کہاں ہے، اسکے مکان کہاں ہیں، اس کی جائداد کہاں ہے؟ مگر وہ جو اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اذان دی تھی وہ اب تک باقی ہے اور باقی رہے گی۔پس سب چیزیں فتا ہو جاتی ہیں لیکن انسان کا عمل فنا نہیں ہوتا اور تم اس طرف توجہ نہیں دیتی ہو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر شخص کا پرندہ ہم نے اُس کی گردن پر باندھ رکھا ہے ہے اور وہ پرندہ کیا ہے؟ اس کا عمل۔اگر وہ نیک ہوگا تو اُس کا پرندہ بھی نیک ہوگا ، اگر وہ بد ہوگا تو وہ بھی بد۔پس عملی زندگی میں اصلاح کی کوشش کر و سینکڑوں ایسی ہوں گی جو دس سال سے آتی ہوں گی مگر انہوں نے ہر سال جلسہ پر آ کر کیا فائدہ اُٹھایا ؟ عمل دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) انفرادی اور (۲) اجتماعی۔جب تک یہ دونوں قسم کے عمل مکمل نہ ہوں تمہاری زندگی سُدھر نہیں سکتی نہ اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔انفرادی اعمال نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ ، چندے دینا اور سچ بولنا اس میں کوئی ضرورت نہیں کہ بیں چھپیں اور عورتیں ہوں جو تمہارے ساتھ مل کر یہ کام کریں یہ انفرادی اعمال ہیں جو ایک آدمی سے تعلق رکھتے ہیں کسی جتھے کی ضرورت نہیں۔یہ کام ایسے ہیں کہ ان کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتیں کہ چونکہ ہمارے ساتھ اور عورتیں شامل نہ تھیں اس لئے میں نے نماز نہیں پڑھی یا اس لئے روزہ نہیں رکھا کہ اور روزہ رکھنے والے نہ تھے۔خدا تعالیٰ قیامت کے دن اُس آدمی کو نہیں چھوڑے گا جو کہے گا کہ نماز اس لئے نہیں پڑھی کہ جماعت نہ تھی یا روزہ اس لئے نہیں رکھا کہ اور جماعت نہ تھی ، زکوۃ اس لئے نہیں دی کہ جماعت نہ تھی قیامت کے دن تم ہرگز یہ نہیں کہہ سکتیں کہ چونکہ جماعت ساتھ نہ تھی اس لئے ہم یہ کام نہ کر سکیں اس لئے نماز چھٹ گئی ، حج چُھٹ گیا۔یہ انفرادی کام ہیں ان کو ایک آدمی اپنے طور پر کر سکتا ہے خواہ اُس کے ساتھ اور کوئی لوگ ہوں یا نہ ہوں۔دوسرے اعمال اجتماعی اعمال ہیں۔وہ ایسے کام ہیں جو مل کر کئے جاتے ہیں جب تک جماعت ساتھ نہ ہو وہ کام مکمل نہیں ہو سکتے مثلاً با جماعت نماز مردوں کے لئے ہے عورتوں کے لئے نہیں گو پسندیدہ ہے لیکن مرد اگر باجماعت نماز نہیں پڑھے گا تو باوجود اس کے کہ وہ نمازیں