انوارالعلوم (جلد 16) — Page 437
مستورات سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ سی ہے نہ تمہارے دماغوں میں اتنی روشنی ہے کہ مفہوم کو عمدگی کے ساتھ سمجھ سکو، نہ تمہاری زبانوں میں اتنی طاقت ہے کہ مَا فِی الضمیر کو ادا کر سکوں۔کئی عورتیں آتی ہیں کہ جی ہم مصیبت زدہ ہیں ہماری بات سن لیجئے۔وہ مجھے کئی ضروری کاموں سے روک لیتی ہیں۔مرد ایسے دوسو میں سے دس ہوتے ہیں مگر عورتیں سو میں سے نوے ہوتی ہیں۔میں سو کام چھوڑ کر اُس کی بات سنتا ہوں کہ احمدی جماعت میں سے ہے، مصیبت زدہ ہے۔ہمدردی کروں لیکن وہ میرا وقت ضائع کر دیتی ہے۔عورتیں بہت لمبی چوڑی باتیں شروع کر دیتی ہیں۔مثلاً میں فلاں کے گھر اُس کے جنوبی دروازہ سے اُس کے صحن میں داخل ہوئی، اُس کا صحن بس یہی کوئی تین چار چار پائیوں کا ہو گا صحن سے گزر کر میں برآمدہ میں داخل ہوئی پھر میں اندر گئی یہ طریق گفتگو بتا تا ہے کہ کام ہے ہی نہیں۔سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ تم اپنے لئے کام تجویز کرو۔زمیندار عورتیں گھروں میں کام کرتی ہیں انہیں محنت کی عادت ہوتی ہے لیکن شہری عورتوں کو سوائے باتوں کے اور کچھ آتا ہی نہیں۔امراء کی عورتیں نوکروں کو گالیاں دیتی رہتی ہیں سارا دن جھک جھک کرنے میں گزر جاتا ہے وہ پانچ منٹ نوکر کو صرف اس لئے جھاڑتی ہے کہ تو نے پیالی کیوں صاف نہیں کی حالانکہ اگر وہ خود کرے تو ایک منٹ میں پیالی صاف ہو سکتی ہے۔بعض لوگ قطب مینار پر صرف دو منٹ کے لئے چڑھتے ہیں لیکن اُس پر اپنا نام لکھ جاتے ہیں کہ فلاں بن فلاں اس جگہ فلاں دن آیا تھا وہ گوارا نہیں کرتے کہ صرف دو منٹ کے لئے بھی آکر یونہی واپس چلے جائیں بلکہ اپنی نشانی چھوڑ کر جاتے ہیں۔مینارة امسیح ایک مقدس جگہ ہے بعض نادان اس پر چڑھ کر اپنا نام لکھ جاتے ہیں۔تم خدا کی اس دنیا میں پچاس ساٹھ سال رہ کر جاتی ہو لیکن اتنا بھی نشان چھوڑ کر نہیں جاتی ہو کیا تم کہہ سکتی ہو کہ تمہاری ماں، تمہاری دادی ، تمہاری نانی وغیرہ تمہارے لئے کوئی نشان چھوڑ کر گئی ہیں؟ بائیل میں آتا ہے کہ آدم تیرے گناہ کی یہ سزا ہے کہ تیری بیٹی تجھے نہیں بلکہ اپنے خاوند کو چاہے گی اور تیرا بیٹا تجھے نہیں بلکہ اپنی بیوی کو چاہے گا۔ایک شخص آتا ہے کہتا ہے ابا جان خط آیا ہے بچہ بیمار ہے میں جاؤں؟ تو باپ اُس کے احساسات کو مد نظر رکھ کر اجازت دیدیتا ہے کہ جاؤ حالانکہ اگر وہ احسان شناس ہوتا احساس رکھتا تو ماں کو نہ چھوڑتا ، باپ کو نہ چھوڑتا بلکہ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ دیتا وہ کہتا کہ سارے مر جائیں میں اپنے ماں باپ کو نہ چھوڑوں گا۔تو دنیا میں جن چیزوں کو تم نشان سمجھتی ہو وہ نشان نہیں بلکہ نشان مٹانے والے ہیں ایک ہی چیز ہے جو باقی رہنے والی ہے اور وہ ہے الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ۔وہ کام جو خدا کے لئے کروگی باقی رہے گا۔آج