انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 415

خدام الاحمدیہ سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ اس حرکت کو معلوم کر لیتے ہیں اور میلوں میل سے سواروں کے آنے کی آواز سُن لیتے ہیں زیادہ سوار ہوں تو پانچ پانچ میں سے آواز سُن لیتے ہیں ایک دو ہوں تو نسبتا کم فاصلہ سے اور اگر کوئی پیدل آ رہا ہو تو بھی پچاس سو گز کے فاصلے سے ہی اُس کے آنے کی آہٹ معلوم کر لیتے ہیں۔اس کے بعد میں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ باتیں تو تمہاری کھیلوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا فائدہ تمہارے جسم کو پہنچ سکتا ہے لیکن تمہارا کام صرف ان کھیلوں کی طرف متوجہ ہونا اور اپنے جسموں کو درست کرنا ہی نہیں بلکہ تمہارا حقیقی کام اخلاقی اور علمی رنگ میں ترقی کرنا ہے۔میں نے اپنے خطبات میں بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے اور اس وقت بھی میں ایک ٹریکٹ میں جو دفتر خدام الاحمدیہ نے شائع کیا ہے یہی پڑھ رہا تھا کہ خدام الاحمدیہ کو مذہبی ، اخلاقی اور عملی رنگ میں کام کرنے کے لئے منظم کیا گیا ہے پس انہیں اپنے اس کام کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے انہیں چاہئے تھا کہ اِس موقع پر ان کاموں کے بھی مقابلے رکھتے جب خدام الاحمدیہ کا اصل کام یہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ تعلیمی اور اخلاقی اور مذہبی رنگ کے مقابلے ایسے اجتماع میں نہ رکھے جائیں میرے نزدیک آئندہ ایسے موقع پر بعض لیکچر ایسے رکھنے چاہئیں جن میں موٹے موٹے مسائل کے متعلق اسلام اور احمدیت کی تعلیم کو بیان کر دیا جائے۔اسی طرح بعض امتحان مقرر کرنے چاہئیں اور دیکھنا چاہئے کہ خدام الاحمدیہ کو احمدیت اور اسلام سے تعلق رکھنے والے مسائل سے کس حد تک واقفیت ہے۔جس طرح آئی۔سی۔ایس میں ایک جنرل نالج کا پرچہ ہوتا ہے اسی طرح احمدیت کے متعلق ایک جنرل نالج کا پرچہ رکھنا چاہئے اور مختلف سوالات نوجوانوں سے دریافت کرنے چاہئیں مثلاً یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتنی عمر تھی ؟ یا آپ کے کسی الہام کو پیش کر کے پوچھ لیا جائے کہ اس کا کیا مفہوم ہے؟ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب کے متعلق دریافت کیا جائے کہ وہ کس موضوع پر ہے ؟ یا یہ دریافت کیا جائے کہ تمہارے نزدیک وفات مسیح کی سب سے بڑی دلیل کیا ہے؟ یا نبوت کی کیا تعریف ہے؟ یا ہم رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کس قسم کی نبوت کو جائز سمجھتے ہیں اور کسی قسم کی نبوت کو جائز نہیں سمجھتے ؟ یہ اور اسی قسم کے اور سوالات نوجوانوں سے دریافت کئے جائیں اور اس طرح پتہ لگایا جائے کہ انہیں مذہبی مسائل سے کہاں تک واقفیت ہے۔اس طرح علمی مذاق بھی ترقی کرے گا اور جو لوگ شست ہو نگے وہ بھی چست ہو جائیں گے۔اسی طرح اخلاق کے متعلق مختلف قسم کے سوالات دریافت کرنے چاہئیں۔مثلاً یہ اگر تم کو کوئی شخص گالی دے تو تم کیا کرو گے؟ یا اگر تم کو کوئی شخص مارنے لگ جائے تو تم کس