انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 416

خدام الاحمدیہ سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ حد تک مار کھاؤ گے اور کس حد تک اس کا مقابلہ کرو گے؟ اسی طرح یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر تم دشمن کا مقابلہ کرو تو کس حد تک اُس کا مقابلہ کرنا شریعت کے مطابق ہوگا اور کیسا مقابلہ کرنا شریعت کے خلاف ہوگا ؟ یا اگر کوئی شخص گالی دے تو کس حد تک صبر کرو گے اور کس حد تک خاموش رہنا بے غیرتی بن جائے گا؟ پھر یہ کہ اگر تم گالی کا جواب دو تو کس حد تک شریعت تمہیں جواب دینے کی اجازت دیتی ہے اور کس حد تک نہیں دیتی ؟ ہمارے ملک میں عام طور پر چوہڑوں اور چماروں کی گالیاں ماں بہن کی ہوتی ہیں۔اب فرض کرو تمہارا ذہن کسی کی گالیاں سُن کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ چُپ رہنا بے غیرتی ہے مجھے ان گالیوں کا جواب دینا چاہئے تو ایسے موقع پر بے شک شریعت یہ کہے گی کہ اگر تم جواب دینا چاہتے ہو تو دو مگر شریعت اس بات کو جائز قرار نہیں دیگی کہ تم بھی اُس کے جواب میں ماں بہن کی گالیاں دینے لگ جاؤ۔یہ تو تم دوسرے کو کہہ سکتے ہو کہ تم بڑے کمینے اور بداخلاق ہو تم نے بہت بڑا ظلم کیا جو ایسی گندی گالیاں دیں مگر شریعت تمہیں اس بات کی اجازت نہیں دیگی کہ جس طرح اُس نے ماں بہن کی گالیاں دیں ہیں اسی طرح تم بھی ماں بہن کی گالیاں دینی شروع کر دو۔پس نوجوانوں سے دریافت کرنا چاہئے کہ جب کوئی شخص تمہیں گالیاں دے تو کس حد تک شریعت تمہیں اس کے جواب کی اجازت دیتی ہے اور کس حد تک نہیں دیتی ؟ ان سوالات کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس طرح جماعت کے نو جوانوں کے متعلق ہمیں یہ علم حاصل ہوتا رہے گا کہ وہ اسلامی مسائل کو کس حد تک سمجھتے ہیں اور خود ان کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ انہیں ہر کام کے کرتے وقت اسلامی شریعت پر عمل کرنا چاہئے اور اسے کسی حالت میں بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔پس یہ حصے بھی ریلی میں شامل ہونے چاہئیں اور میرے نزدیک اگر ان پر زور دیا جائے تو یہ حصے بھی ایسے ہی دلچسپ بن جائیں گے جیسے کھیلیں دلچسپ ہوتی ہیں۔ایسا امتحان اگر توجہ کی جائے انسانی زندگی میں حرکت ، دلچسپی اور سرور پیدا کر دیتا ہے۔امریکہ میں ایک دفعہ حکومت نے جُوئے کے خلاف قانون جاری کر دیا۔پولیس چلتی گاڑیوں میں گھس جاتی اور جب لوگوں کو جوا کھیلتے دیکھتی تو انہیں فوراً گرفتار کر لیتی جب لوگوں نے دیکھا کہ اُن کی دلچسپی کا یہ سامان جاتا رہا ہے تو انہوں نے اپنی دلچسپی کے لئے ایک اور راہ نکال لی۔چنانچہ ایک اخبار نے لکھا کہ آخر لوگوں نے اس قانون کا توڑ سوچ ہی لیا اور وہ اس طرح کہ جب انہوں نے دیکھا کہ پولیس جوا وغیرہ نہیں کھیلنے دیتی تو ایک شخص نے ایک دن مصری کی ایک ڈلی نکال کر سامنے رکھ دی اور کی