انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 414

خدام الاحمدیہ سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ وہ دوائی استعمال کی جاتی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں آگیا اور اُس نے ایک گولی اُسے دے دی اُس نے وہیں گولی اپنے منہ میں ڈال لی اور منہ میں ڈالتے ہی دواؤں کے نام گنے شروع کر دئیے یہاں تک کہ وہ نانوے نام گن کر گیا جب ننانوے نام گن چکا تو اس کا سانس ٹوٹ گیا۔طبیب کہنے لگا الْحَمدُ لِلهِ کہ انہیں سویں دوا کا پتہ نہیں لگا اس نسخہ میں سو دوائیں پڑتی تھیں نانوے تم نے گن لیں سویں کا تمہیں پتہ نہیں لگ سکا اس لئے اب تم یہ نسخہ مکمل نہیں کر سکو گے۔تو ایسے لوگ بھی ہیں جن کے چکھنے کی جس بہت تیز ہوتی ہے۔ولایت میں شراب کے جو کارخانے ہیں اُن میں بعض دفعہ پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پر ایسے لوگ ملازم رکھے جاتے ہیں جو شراب کو چکھ کر یہ بتادیتے ہیں کہ یہ شراب فلاں سن کی شراب کے مطابق ہے اور فلاں شراب کا ذائقہ فلاں سن کی شراب سے ملتا ہے ہمارے ملک کی شراب تولسی ، دودھ اور شربت ہے اور ہمارے ملک نے اس میں کوئی خاص ترقی نہیں کی۔چاہے سو سال کے پرانے برتن میں ہی لسی کیوں نہ ہو وہ اسے پی جاتے ہیں اور انہیں ذائقہ میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا مگر ولایت میں پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پر ایسے لوگ ملازم رکھے جاتے ہیں جو شرابوں کو چکھتے رہتے ہیں اور چکھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس شراب کا مزہ فلاں سن کی شراب سے ملتا ہے اور اس شراب کا مزہ فلاں سن کی شراب سے ملتا ہے بلکہ پانچ پانچ ہزار روپیہ تنخواہ کا بھی میں نے کم حساب لگایا ہے میں نے پانچ پانچ ہزار پونڈ سالانہ انکی تنخواہ پڑھی ہے اور اس لحاظ سے انہیں پانچ ہزار روپیہ سے زیادہ ماہوار ملتا ہے۔ان کا کام یہی ہوتا ہے کہ سارا دن بیٹھے ہوئے شرا میں چکھتے رہتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کا انگور فلاں سن کے انگور سے مشابہہ ہے اور یہ شراب فلاں سن کی شراب کے مطابق ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک شراب تو پانچ روپے بوتل کے حساب سے فرورخت ہوتی ہے اور ایک ویسی ہی شراب صرف ذائقہ کے تغیر کی وجہ سے دوسو روپے بوتل کے حساب سے فروخت ہوتی ہے غرض چکھنے کی جس کو ترقی دے کر ایسے ایسے کام لئے جاتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔اسی طرح کانوں کی جس ہے اس کو بڑھا کر بھی حیرت انگیز کام لئے جاسکتے ہیں امریکہ کے ریڈ انڈینز نے اس میں اتنی ترقی کی ہے کہ وہ زمین پر کان لگا کر یہ بتا دیتے ہیں کہ اتنے سوار مثلاً دو چار میل کے فاصلے پر سے آرہے ہیں۔اس کا راز یہ ہے کہ گھوڑوں کے چلنے کی وجہ سے زمین میں حرکت پیدا ہوتی ہے وہ حرکت دوسرے کو معلوم بھی نہیں ہوتی مگر انہوں نے کانوں کی جس بڑھا کر اتنی مشق کی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ فورا زمین پر کان لگا کر