انوارالعلوم (جلد 16) — Page 411
انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ سے خطاب لوگوں کو جن کی رائے عام انتخاب کے موقع پر نہ پیش کی جائے گِلہ اور شکوہ پیدا ہوسکتا ہے مگر بہر حال چونکہ عام طریق یہی ہے کہ اکثریت کی رائے کو پیش کیا جاتا ہے اس لئے جماعت کی رائے وہی سمجھی جائے گی جو اکثریت کی رائے ہوگی۔ بے شک اکثریت کی رائے میں بھی نقص ہو سکتا ہے مگر بہر حال اس ناقص دنیا میں ناقص قوانین میں سے جو زیادہ بہتر ہو اسی کو اختیار کیا جائے گا۔ پس قادیان سے بھی انتخاب کے موقع پر محدود آدمی شامل ہونے چاہئیں ۔ مثلاً دارالرحمت والے ایک نمائندہ بھیج دیں، دارالانوار والے ایک نمائندہ بھیج دیں، اسی طرح باقی محلوں والے ایک ایک نمائندہ بھیج دیں مگر عام ریلی کے سلسلہ میں قادیان والوں کو لازماً حاضر ہونا چاہئے اور جو باہر کی مجالس ہیں ان کے متعلق کوئی قانون مقرر کر لیا جائے مثلاً پچاس ممبروں پر وہ ایک نمائندہ بھیج دیں یا تمھیں ممبروں پر ایک نمائندہ بھیج دیں بلکہ ہو سکتا ہے آئندہ آئندہ بڑھتے بڑھتے ہمیں فی ہزار ایک یا فی دس ہزار ایک نمائندہ لینا پڑے۔ مثلاً لاہور کسی وقت سارے کا سارا احمدی ہو جاتا ہے اور لاہور کی آبادی پانچ لاکھ ہے تو اس میں سے اگر تین لاکھ، پندرہ سے چالیس سال عمر والے سمجھ لئے جائیں اور نصف تعداد عورتوں کی نکال دی جائے تو ڈیڑھ لاکھ آدمی رہ جائیں گے اب اگر ہم سوسو پر ایک نمائندہ لیں تو ڈیڑھ ہزار نمائندے بن جائیں گے اور اگر دس دس ہزار پر ایک نمائندہ لیں تو پندرہ نمائندے آئیں گے اسی طرح اگر کسی وقت لاہور میں خدام کی اتنی کثرت ہو جائے کہ ان کا کوئی ایک اجتماع نہ ہو سکے تو وہ ایسے موقع پر محلہ وار نمائندے بھیج سکتے ہیں مگر بہر حال ان کے ووٹ اُسی قدر سمجھے جانے چاہئیں جس قدر ان کے حلقہ کی جماعت کی تعداد ہو۔ پس ایک تو میں یہ ہدایت دیتا ہوں ۔ دوسرے ریلی کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ اس میں قادیان کے سب لوگوں کو حاضر ہونا چاہئے مگر باہر سے صرف نمائندے بُلائے جائیں ہاں اگر کوئی شخص اپنے شوق سے آنا چاہے تو اُس کے لئے شامل ہونے کا دروازہ کھلا رکھنا چاہئے ۔ اب میں خدام الاحمدیہ کے کام کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں میں نے گل خدام الاحمدیہ کو کام کرتے دیکھا ہے اور مجھ پر یہ اثر ہے کہ اس دفعہ اصول کو مد نظر رکھ کر کام کیا گیا ہے چنانچہ جب مشاہدہ و معائنہ کا مقابلہ ہورہا تھا تو میں نے دریافت کیا کہ تم کس طرح اس کے متعلق فیصلہ کرو گے؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ ہم نے خود مشاہدہ و معائنہ کر کے اس کے بعض پوائنٹ مقرر کئے ہوئے ہیں جن کو دیکھ کر ہم اس بارہ میں آسانی سے فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح آواز کی بلندی کے مقابلہ میں ایک ترتیب سے نشان لگائے گئے تھے اور اس میں تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھا گیا تھا۔