انوارالعلوم (جلد 16) — Page 400
انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمد یہ مقامی کی ریلی سے خطاب عہدہ دیا جانا چاہئے ۔ چنانچہ نماز میں شریعت نے یہی حکم دیا ہے کہ جو شخص زیادہ متقی ہو یا زیادہ علم والا ہو یا زیادہ عمر والا اسے امام بنانا چاہئے ۔ یہی لیڈروں کے انتخاب کے متعلق اسلام کے اصول ہیں گو استثنائی حالات میں ان کے خلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایسا ہے جو ظاہری طور پر کسی فن میں ماہر ہے یا لوگوں میں بڑا مقبول ہے تو خواہ وہ چھوٹی عمر والا ہی ہو اگر اُس کو مقرر کر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہو سکتی مگر قاعدہ کلیہ یہی ہونا چاہئے کہ گروپ لیڈروں کے انتخابات میں اسلام کے بیان کردہ اصول کو مد نظر رکھا جائے ۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آئندہ انتظام زیادہ بہتر رنگ میں کیا جائے گا اور بیرونی جماعتوں میں بھی انہی اصول کو رائج کیا جائے گا۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ بعض گروپوں میں زیادہ نوجوان شامل ہیں اور جو تعداد مقرر ہے اُس کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ اس طرح بعض جگہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص کہتا ہے میں فلاں گروپ میں شامل ہوں اور گروپ لیڈر کہتا ہے کہ یہ میرے گروپ میں نہیں اس قسم کی غلطیاں بھی نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ اس طرح انسان غلط فہمی میں ر ں رہتا ہے اور اُس کا ذہن صحیح طور پر کام نہیں کرتا۔ پس خدام الاحمدیہ کی تنظیم مکمل ہونی چاہئے اس کے بعد اگلا قدم کام لینے کا ہے اگر آئندہ کوئی موقع پیدا ہوا تو میں اس اگلے قدم کے متعلق مناسب ہدایات دونگا اور بتاؤ نگا کہ کام لینے کے مواقع کس طرح پیدا ہو سکتے ہیں اور جب کام لینے کے مواقع پیدا ہو جائیں تو کس طرح کام لیا جا سکتا ہے کیونکہ صرف تنظیم فائدہ نہیں پہنچا سکتی جب تک کام لینے کے مواقع نہ پیدا کئے جائیں اور نوجوانوں سے صحیح رنگ میں کام لے کر ان کی قوتوں کو بیدار نہ کیا جائے ۔ فی الحال میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور دُعا کر کے واپس جاتا ہوں اگر جلسے کا کوئی اور حصہ ہو تو وہ اس کے بعد کیا جاسکتا ہے۔ لى السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۳۴۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ے بخاری کتاب المغازى باب رجع النبي صلى الله عليه وسَلَّمَ من الاحزاب (ال) ترمذی ابواب الصلوة باب ما جاء في مواقيت الصلوة - ه بخارى كتاب الجمعة باب الإِنصاتُ يَومَ الجمعة - کے آل انڈیا کشمیر کمیٹی: ۲۵ جولائی ۱۹۳۱ء کو نواب سر ذوالفقار علی خان آف مالیر کوٹلہ کی