انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 398

انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ مقامی کی ریلی سے خطابہ طرح غصہ بھی نکل جائے گا اور اصلاح بھی ہو جائے گی۔تو اصل غرض خدام الاحمدیہ کے نظام کی یہی وجہ تھی مگر اس میں بہت کچھ نا کامی ہوئی ہے آئندہ کے لئے جو میں نے ہدایتیں دی ہیں ان پر عمل کرنا چاہئے اور فرمانبرداری اور اطاعت کا ادہ ہر شخص کے اندر پیدا کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔اس نظام کی پابندی کی عادت نو جوانوں میں پیدا کرو اور اس غرض کو باقی تمام اغراض پر مقدم رکھو۔یہی وجہ ہے کہ متواتر ایک سال سے میں مرکز والوں کو لکھ رہا تھا کہ تم خدام الاحمدیہ کا کوئی اجتماع کرو جس میں مجھے بھی بلاؤ تا میں دیکھ سکوں کہ انہیں کس رنگ میں منظم کیا گیا ہے۔مگر مجھے یہاں آکر کئی قسم کی کوتاہیاں معلوم ہوئیں اگر صد را ور سیکرٹری بار بار دورہ کرتے اور اپنے سامنے خدام کو کام کرواتے تو اس قسم کی غلطیوں کو وہ خود بھی محسوس کر لیتے اور ان کو دُور کرنے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دفتری رنگ میں حکم بھیج کر عمدگی سے کام سرانجام دیا جا سکتا ہے حالانکہ اس طرح کبھی کامیابی نہیں ہوتی۔میں نے اس معائنہ میں ایک اور بات بھی محسوس کی جو شریعت کے تمام اصول کے خلاف ہے۔یوں تو جائز ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا ہے مگر استثنائی حالات میں، قاعدہ کلیہ کے رنگ میں نہیں اور وہ یہ ہے کہ بالعموم جو گروپ لیڈر ہیں وہ لڑکے ہیں اور جو ان کے ماتحت ہیں وہ زیادہ تر تعلیم یافتہ یا زیادہ علم والے یا زیادہ تقویٰ والے ہیں میں اس حکمت کو نہیں سمجھ سکا۔ایک محلہ کے زعیم صاحب نے بتایا کہ گروپ لیڈر اُن کو بنایا گیا ہے جو نماز کے زیادہ پابند ہیں۔یہ بات میرے لئے اس لحاظ سے خوشی کا باعث ہے کہ ہماری آئندہ نسل نماز کی زیادہ پابند ہے مگر اس کے ساتھ ہی اگر یہ درست ہو تو یہ بات میری آنکھیں کھولنے والی ہوگی کہ پرانے آدمی نمازی نہیں ہیں۔اگر ان کی یہ بات درست ہے کہ گروپ لیڈر ان ہی کو بنایا گیا ہے جو نماز کے زیادہ پابند ہیں تو ماننا پڑے گا کہ جو ان گروپ لیڈروں کے ماتحت ہیں وہ نماز میں نسبتا سست ہیں اور یہ سخت افسوس کا مقام ہو گا۔بہر حال شریعت نے اوّل تقویٰ والے کو فضیلت دی ہے پھر علم والے کوا اور پھر عمر والے کو اور یہی انہیں اپنے انتخابات میں مد نظر رکھنا چاہئے۔مگر گروپ لیڈر بالعموم چھوٹی عمر کے ہیں اور بڑی عمر کے نوجوان ان کے ماتحت ہیں چنانچہ آج بھی ستر فیصد گروپ لیڈر ایسے ہی نظر آئے ہیں اور تمیں فیصد کچھ بڑی عمر کے گروپ لیڈر تھے حالانکہ خدام الاحمدیہ میں بڑھے تو ہوتے ہی نہیں سب نوجوان ہوتے ہیں۔پس یہ تو ہو نہیں سکتا کہ بڑی عمر والے بوجہ ضعف یا کمزوری کے گروپ لیڈر نہ بن سکتے ہوں کیونکہ وہ سب نوجوان ہیں۔ہاں اگر کوئی بیمار