انوارالعلوم (جلد 16) — Page 397
خدام الاحمدیہ مقامی کی ریلی سے خطاب نه انوار العلوم جلد ۱۶ دوڑتے دوڑتے ٹھہرنے کا حکم دے تو تم اُسی وقت ٹھہر جاؤ چلتے ہوئے دائیں یا بائیں مڑنے کو کہے تو دائیں یا بائیں مڑ جاؤ۔یہ فوجی پریڈ نہیں ہے کہ اس کے متعلق تمہیں یہ خدشہ ہو کہ گورنمنٹ نے اس سے روکا ہوا ہے گورنمنٹ نے صرف فوجی قواعد سے منع کیا ہوا ہے۔چلنے پھرنے سے نہیں روکا اور یوں اگر دس آدمیوں کا اس طرح چلنا پھرنا منع ہو تو پانچ پانچ آدمی اس رنگ میں مشق کر سکتے ہیں۔اگر پبلک طور پر اس قسم کی مشق کی ممانعت ہو تو گھروں میں یہ مشق کی جاسکتی ہے۔بہر حال گورنمنٹ کا کوئی قانون ایسا نہیں ہو سکتا جو لوگوں کو باندھ کر رکھ دے۔اگر تم عقل سے کام لوتو گورنمنٹ کوئی ایسا حکم نہیں دے سکتی جس کے ہوتے ہوئے اپنی تنظیم کو مکمل نہ کیا جا سکتا ہو اور میں چیلنج دیتا ہوں کہ کوئی مجھے گورنمنٹ کا ایسا قانون بتائے جس کے ہوتے ہوئے جماعت کی تنظیم نہ ہو سکتی ہو۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس بات پر کامل یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ کے تمام قواعد کی فرمانبرداری کرتے ہوئے ہم جماعت کی تنظیم ہر رنگ میں کر سکتے ہیں صرف عقل سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔اب تو بعض جگہ یورپ میں بھی اس طریق کو استعمال کیا جا رہا ہے مگر میں نے سب سے پہلے اس گر کو کشمیر میں برتا تھا جب حکومت کشمیر نے بڑی سختی سے ریاست میں تقریریں وغیرہ روک دیں تو میں اُس وقت اُس تنظیم کے کا صدر تھا میں نے اشتہار دیا کہ گھر کے تمام لوگ رات کو ایک جگہ اکٹھے ہو جایا کریں اور بیوی بچے سب مل کر دعا کیا کریں یا اللہ ! فلاں فلاں ظالمانہ احکام کے متعلق تو حکومت کو توفیق دے کہ وہ اُن کو بدل دے اور تیرے بندے امن اور چین سے زندگی بسر کر سکیں۔میں نے اِس دُعا میں اُن تمام احکام کو یکجا کر کے لکھ دیا جن کو ہم روکنا چاہتے تھے اور میں نے کشمیر والوں سے کہا کہ وہ روزانہ یہ دعا کیا کریں۔اس طرح حکومت نے تقریروں سے منع کیا ہوا تھا تا لوگوں میں جوش پیدا نہ ہو مگر جب وہ سب مل کر روزانہ یہ دُعا کرتے تھے تو اس رنگ میں اُن کی پریڈ ہو جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ اگر حکام ظالم ہوں تو تم دُعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ اُن کی اصلاح کر دے اس میں حکمت یہی ہے کہ اس طرح غصہ نکلتا رہتا ہے اور اگر کوئی حاکم واقعی ظالم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی اصلاح کر دیتا ہے یا اُس کے شر سے اپنے بندوں کو بچا لیتا ہے اور اگر ظالم نہ ہو مگر اُس کے متعلق غلط فہمی ہوئی ہو تو دعا کے ذریعہ اس کا غصہ نکل جاتا اور اس طرح اس کے دل کو ایک رنگ میں سکون حاصل ہو جاتا ہے پس ہماری شریعت نے یہ بھی ایک علاج رکھا ہے کہ جب تمہیں کسی پر زیادہ غصہ آئے تو تم سجدے میں گر جاؤ اور خدا تعالیٰ سے دُعائیں کرو۔اس