انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 396

انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمد یہ مقامی کی ریلی سے خطاب کہا جا ہاتھ کے اشارہ سے دوسرے کو روک دیں مگر ہاتھ کے اشارے سے احکام دینے کی اجازت نہیں لیکن لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا ہے کہ جب اشارے سے منع کرنے کی اجازت ہے تو احکام دینے کے لئے بھی ہاتھ سے اشارہ کرنا جائز ہے حالانکہ اشارے کی نفی کا حکم ہے مثبت کا حکم اشارے سے بھی نہیں سوائے اس کے کہ خطیب خود کہے یا ایسے حالات پیدا ہو جائیں جن میں احکام کا تعطل ہو جاتا ہے۔ مثلاً خطبہ کے دوران میں اگر کوئی شخص بیہوش ہو جائے تو وہاں شریعت کا حکم فوراً معطل ہو جائے گا۔ اُس وقت اگر کوئی شخص اس کی مدد کے لئے دوسروں کو آواز میں بھی دے گا تو یہ جائز ہوگا کیونکہ شریعت نے بعض مواقع کے مواقع کے متعلق کہہ دیا ہے کہ وہاں میرا حکم بند ہے تم جو مناسب سمجھو کرو۔ پس اُس وقت چاہے کوئی بولے یا شور مچائے سب جائز ہوگا ۔ غرض خدام الاحمدیہ کے نظام کی بڑی غرض نوجوانوں کی صحیح رنگ میں تربیت کرنا اور انہیں اس بات کی عادت ڈالنا ہے کہ وہ اپنی تمام حرکات ایک ضبط کے ماتحت رکھیں ۔ دُنیا میں کئی تاریخی مثالیں اس قسم کی ملتی ہیں کہ بادشاہ یا جرنیل گھوڑے سے گر گیا اور اُس کی اپنی فوج اُسے کچلتی ہوئی گزرگئی ، اُس کی وجہ یہی تھی کہ اُن میں تنظیم نہیں تھی اور انہیں اس بات کی عادت نہیں ڈالی گئی تھی کہ جب ا جائے چلو تو سب چل پڑیں ۔ عدم تنظیم کی وجہ سے کوئی کہتا ڑکو ، رکو اور کوئی کہتا آگے چلو ، آگے چلو۔ اور اُن میں سے کوئی بھی یہ نہ سوچتا کہ اپنا جرنیل گرا پڑا ہے اُسے تو اُٹھا لیا جائے تو گروپ لیڈر کا حکم ماننے کی ہر شخص کے اندر روح پیدا کرنی چاہئے ۔ یہ گروپ لیڈر کو چاہئے کہ وہ حکم دے، دوڑو ! اور جب دوڑ رہے ہوں تو یکدم یکدم حکم دے ٹھہر ؤ اور کبھی دوڑاتے دوڑاتے کہہ دے دائیں طرف مڑو کبھی کہہ دے بائیں طرف مڑو اور وہ سب کے سب حکم ملتے ہی اس کی اطاعت کریں ۔ وہ کھڑا ہونے کے لئے کہے تو سب یکدم کھڑے ہو جائیں اور ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا ئیں۔ دوڑنے کو کہے تو سب دوڑ نے لگ جائیں ۔ اگر اس رنگ میں نو جوانوں کو ٹرینگ دی جائے تو اُن کو ایسی عادت پیدا ہو جائے گی کہ اگر دو دن کا دُودھ ۔ پیتا بچہ بھی گر جائے گا اور انہیں حکم ملے گا کہ ٹھہر جاؤ تو یکدم سب کے قدم رک جائیں گے لیکن اگر یہ عادت نہ ہو تو ہو سکتا ہے کہ تمہارا اپنا گروپ لیڈر یا تمہارا زعیم یا تمہارا سیکرٹری یا خدام الاحمدیہ کا اس سے بھی کوئی بڑا افسر گر جائے اور تم اپنے پیروں سے اُسے کچلتے ہوئے گزر جاؤ تو اس بات کی عادت ڈالنی چاہئے مگر یہ عادت بغیر تنظیم کے پیدا نہیں ہو سکتی ۔ ہر گروپ لیڈر جہاں کہتا ہے کھڑے ہو جاؤ ، وہاں تمہارا فرض ہے کہ کھڑے ہو جاؤ۔ جب تمہیں دوڑنے کے لئے کہے تو دوڑ پڑو۔ اور جب دو