انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 376

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ تم ایک دوسرے میں جذب ہو جاؤ بلکہ باوجود ملنے کے الگ الگ رہو۔دیکھ لو یہ وہی پیشگوئی ہے جس کا سورہ رحمن میں بھی ان الفاظ میں ذکر ہے مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِينِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِينِ ) کہ خدا نے دو سمندر اُس زمانہ میں بنائے ہونگے ، ایک میٹھے پانی کا ہوگا اور ایک کڑوے پانی کا ، وہ دونوں آپس میں مل جائینگے مگر باوجود اس کے کہ وہ ملے ہوئے ہونگے ان میں ایسی برزخ حائل ہو گی کہ میٹھا پانی کڑوے میں جذب نہیں ہوگا اور کڑوا پانی میٹھے میں جذب نہیں ہو گا۔مغربیت کی کبھی نقل نہ کرو یہ پیشگوئی در حقیقت مغربیت اور دجالیت کے متعلق ہے، چنانچہ دیکھ لو قرآن کریم نے اپنے الفاظ میں ہی اس طرف اشارہ کر دیا ہے فرماتا ہے هذَا مِلح أجَاج - اور اُجاج سے یا جوج اور ماجوج دونوں قوموں کی طرف اشارہ ہے اس کے مقابلہ میں عَذَبٌ فُرَاتٌ رکھا ہے اور حِجْرًا مَّحْجُورًا میں بتا دیا کہ تمہیں ان قوموں سے مل کر رہنا پڑے گا اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت تمہیں عیسائی حکومت کے ماتحت رکھا جائے گا۔ایسی حالت میں تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ تم میٹھے پانی کا سمندر ہو اور وہ کڑوے پانی کا سمندر ہیں، تم مغربیت کی نقل کبھی نہ کرو اور باوجود ان میں ملے ہونے کے ایسے امور کے متعلق صاف طور پر کہہ دیا کرو کہ تم اور ہو اور ہم اور ہیں گویا ایک برزخ تمہارے اور اُن کے درمیان ضرور قائم رہنی چاہئے یہی وہ برزخ ہے جس کو قائم کرنے کے لئے میں تحریک جدید کے ذریعہ جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مغربی اثرات کو قبول نہ کریں جو احمدی میٹھے پانی کا ہے وہ ضرور ان سے الگ رہے گا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ کڑوا اور میٹھا پانی ایک دوسرے میں جذب ہو جائے۔اسی طرح جو غیر احمدی ہیں وہ خواہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ مانتے ہوں ، انہیں مغربیت کی نقل نہیں کرنی چاہئے ، کیونکہ یہ مسیح موعود کی تعلیم نہیں یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ اُن کے بھیجنے والے خدا کی تعلیم ہے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو کھانے پینے ، پہننے اور تمدن ومعاشرت کے دوسرے کئی امور میں مغربیت کی نقل کرتا اور اس نقل میں خوشی اور فخر محسوس کرتا ہے، ایسے لوگ در حقیقت مِلْحٌ أُجَاج ہیں ، عَدُبٌ فُرَاتٌ سے تعلق نہیں رکھتے۔جماعت احمدیہ کے قیام میں ایک بہت بڑی حکمت ایک دفعہ بعض غیر احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام