انوارالعلوم (جلد 16) — Page 375
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا ہوتا اور نہ اس کے مطالب اور معانی پر غور کیا ہوتا ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل پھر یہ تلوار ہمارے ہاتھوں میں دی ہے اور میرا دعویٰ ہے کہ دنیا میں کوئی سچا مسئلہ اور کوئی حقیقی خوبی ایسی نہیں ، نہ زمین میں نہ آسمان میں جو اس کتاب میں موجود نہ ہو۔اسی طرح کوئی ایسی بات نہیں جس سے دنیا کے دماغ تسلی پاسکتے ہوں مگر وہ بات قرآن کریم میں نہ پائی جاتی ہو۔پھر فرماتا ہے وَهُوَ الَّذِى مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذَا عَذَبٌ فُرَاتٌ وَهذَا مِلْحٌ أُجَاج وہ خدا ہی ہے جس نے دوسمندر دُنیا میں ملا دیئے ہیں۔مرج کے معنے ہوتے ہیں ملا دینے کے پس وَهُوَ الَّذِی مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ کے معنے یہ ہوئے کہ وہ خدا ہی ہے جس نے دوسمندر دنیا میں ملا دیئے ہیں هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ ایک سمندر اپنی خاصیت کے لحاظ سے میٹھا ہے اور اس کا پانی انسان کے لئے تسکین بخش ہے۔وَهذَا مِلْحٌ أُجَاج مگر دوسرا زخم ڈال دینے والا نمکین ہے اور آگ کی طرح گرم۔وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرُ زَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُورًا مگر باوجود اس کے کہ دونوں سمندر ملا دیئے گئے ہیں اس کے درمیان اور اُس کے درمیان ایک فاصلہ پایا جاتا ہے۔دنیا میں قاعدہ ہے کہ جب میٹھی اور نمکین چیز ملائی جائے تو ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جو ان دونوں سے مختلف ہوتی ہے۔جیسے بعض لوگ میٹھی چائے میں نمک ملا لیا کرتے ہیں، میں ایسی چائے کو ” منافق چائے“ کہا کرتا ہوں اور مجھے اس سے بڑی نفرت ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک شادی ہوئی جس میں لڑکی والوں نے دعا کے لئے مجھے بھی بلا یا، ایسے موقع پر جو چیز بھی سامنے آئے میزبان کی خواہش کے مطابق استعمال کرنی پڑتی ہے، اتفاق ایسا ہوا کہ انہوں نے جو چائے تیار کرائی اُس میں نمک بھی ملا دیا۔میرے ساتھ ایک دوست بیٹھے ہوئے تھے وہ آہستہ سے میرے کان میں کہنے لگے ایسی چائے کو کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا کہتے تو منافق ہی ہیں مگر اِس وقت پئے ہی جائیں۔وہ دوست کچھ دیر سے واقعہ ہوئے ہیں، ہمیں ڈرا کہ کہیں وہ میزبان کے سامنے ہی نہ کہ بیٹھیں اور اُن کی دل شکنی نہ ہو، مگر خیر گزری کہ انہوں نے میزبان کے سامنے کچھ نہ کہا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پانی منافق نہیں ہوں گے باوجود اس کے کہ وہ دونوں ملے ہوئے ہوں گے اور بظاہر جب دو چیزیں مل جائیں تو دونوں کا ذائقہ بدل کر کچھ اور ہو جاتا ہے، مگر ہماری طرف سے یہ اعلان ہو رہا ہوگا کہ حِجْرًا مَّحْجُورًا۔اے ملنے والو! تمہارے ملنے