انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 371

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ ملاقات کے بہانے اُن پر حملہ کر دونگا۔اب ایک پٹھان کا قادیان آنا اور اُس کی باتوں کے وقت ایک احمدی پٹھان کا ہی موجود ہونا اور اُس کا پکڑا جانا محض اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ تھا اور نہ اگر کوئی غیر پٹھان ہوتا تو وہ سمجھ بھی نہ سکتا تھا کہ اُس نے ٹانگ کو اس طرح کیوں حرکت دی ہے۔زہر آلود بالائی کھلانے کی کوشش اسی طرح میں ایک دفعہ جلسہ سالانہ میں سٹیج پر تقریر کر رہا تھا کہ کسی نے ایک پرچ میں بالائی رکھ کر دی کہ یہ حضرت صاحب کو پہنچا دی جائے اور دوستوں نے دست بدست اُسے آگے پہنچانا شروع کر دیا۔رستہ میں کسی دوست کو خیال آیا کہ یہ کوئی زہریلی چیز نہ ہو ، چنانچہ اس نے چکھنے کے لئے ذراسی بالائی زبان کو لگائی تو اُس کی زبان کٹ گئی ، مگر چونکہ وہ دست بدست پیچھے سے چلی آ رہی تھی اس لئے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون شخص تھا جس نے زہر کھلانے کی کوشش کی۔تو اس قسم کے کئی واقعات ہوتے رہتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا پتہ چلتا ہے ، مگر پھر بھی جب تک وہ چاہتا ہے حفاظت کا سامان رہتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے اِن سامانوں کو ہٹا لیتا ہے بہر حال اس جہان کی سلامتی محدود ہے، لیکن اگلے جہان کی سلامتی غیر محدود اور ہمیشہ کے لئے ہے۔مذہبی جنگوں میں مسلمانوں کی کامیابی کا وعدہ پھر میں نے سوچا کہ اس دنیا میں تو جنگیں بھی ہوتی ہیں اور جنگوں میں حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ تلوار اور دوسرے ہتھیار سمجھے جاتے ہیں جو مینا بازار سے میسر آ سکتے ہیں کیا اس مینا بازار سے بھی ہمیں کوئی ایسی ہی چیز مل سکتی ہے یا نہیں؟ سو اس کے متعلق میں نے دیکھا تو قرآن میں لکھا تھا اِنَّ اللهَ يُدفِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانِ كَفُورٍ أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ بِالَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقَّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَمَسَاجِدُ | يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَّنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ كَ فرماتا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ مؤمنوں کی طرف سے دفاع کرنے والا ہے یعنی ہم تلوار تمہارے ہاتھ میں نہیں دیں گے بلکہ اپنے ہاتھ میں رکھیں گے۔اگر تمہارے ہاتھ میں تلوار دینگے تو وہ ایسی ہی ہوگی جیسے بچہ سے اس کی ماں کہتی ہے کہ فلاں چیز اُٹھا لا اور پھر خود ہی اُس چیز کو اُٹھا کر اُس کا صرف ہاتھ لگوا دیتی ہے اور بچہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے چیز اٹھائی ہے۔پھر فرماتا