انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 370

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ بیان دیتے ہوئے کہا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی تقریریں سُن سُن کر میرے دل میں احمد یوں کے متعلق یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ ہر مذہب کے دشمن ہیں۔عیسائیت کے وہ دشمن ہیں ، ہندو مذہب کے وہ دشمن ہیں، سکھوں کے وہ دشمن ہیں، مسلمانوں کے وہ دشمن ہیں اور میں نے نیت کر لی کہ جماعت احمدیہ کے امام کو قتل کر دونگا۔میں اس غرض کے لئے قادیان گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ پھیرو چیچی گئے ہوئے ہیں، چنانچہ میں وہاں چلا گیا۔پستول میں نے فلاں جگہ سے لے لیا تھا اور ارادہ تھا کہ وہاں پہنچ کر اُن پر حملہ کر دوں گا ، چنانچہ پھیر و چیچی پہنچ کر میں اُن سے ملنے کے لئے گیا تو میری نظر ایک شخص پر پڑ گئی جو اُن کے ساتھ تھا اور وہ بندوق صاف کر رہا تھا ( یہ دراصل بیٹی خاں صاحب مرحوم تھے ) اور میں نے سمجھا کہ اس وقت حملہ کرنا ٹھیک نہیں ، کسی اور وقت حملہ کرونگا۔پھر میں دوسری جگہ چلا گیا اور وہاں سے خیال آیا کہ گھر ہو آؤں۔جب گھر پہنچا تو بیوی کے متعلق بعض باتیں سُن کر برداشت نہ کر سکا اور اُسے پستول سے ہلاک کر دیا۔پس یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا جو ہو گیا ورنہ میرا ارادہ تو کسی اور کو قتل کرنے کا تھا۔اب دیکھو کس طرح اس شخص کو ایک ایک قدم پر خدا تعالیٰ روکتا اور اس کی تدبیروں کو ناکام بناتا رہا۔پہلے وہ قادیان آتا ہے مگر میں قادیان میں نہیں بلکہ پھیر و چیچی ہوں ، وہ پھیرو چیچی پہنچتا ہے تو وہاں بھی میں اُسے نہیں ملتا اور اگر ملتا ہوں تو ایسی حالت میں کہ میرے ساتھ ایک اور شخص ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں اتفاقاً بندوق ہے اور اُس کے دل میں خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ اس وقت حملہ کرنا درست نہیں۔پھر وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور ادھر اُدھر پھر کر گھر پہنچتا ہے اور بیوی کو مار کر پھانسی پر لٹک جاتا ہے۔فتنہ احرار کے ایام میں ایک نوجوان پٹھان کا ارادہ قتل سے قادیان آنا اس طرح احرار کے فتنہ کے ایام میں ایک دفعہ ایک پٹھان لڑکا قادیان آیا اور میرا نام لے کر کہنے لگا میں نے اُن سے ملنا ہے۔میاں عبدالاحد خاں صاحب افغان اُس سے باتیں کرنے لگے۔باتیں کرتے کرتے یک دم اُس نے ایک خاص طرز پر اپنی ٹانگ پلائی اور پٹھان اس طرز پر اُسی وقت اپنی ٹانگ ہلاتے ہیں جب انہوں نے نیچے چھرا چھپایا ہوا ہو۔میاں عبدالاحد خاں بھی چونکہ پٹھان ہیں اور وہ پٹھانوں کی اس عادت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لئے جو نہی اُس نے خاص طرز پر ٹانگ ہلائی انہوں نے یکدم ہاتھ ڈالا اور چھری پکڑ لی۔بعد میں اُس نے اقرار بھی کرلیا کہ میرا ارادہ یہی تھا کہ