انوارالعلوم (جلد 16) — Page 369
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) شریف آدمی ہیں آپ ہی مجھ پر رحم کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا کم بخت ! تم مجھ سے سُن کر ہی کہہ دیتے کہ اللہ حفاظت کریگا۔تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ایک رؤیا مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جب پادری مارٹن کلارک نے مقدمہ کیا تو میں نے گھبرا کر دعا کی۔رات کو رویا میں دیکھا کہ میں سکول سے آ رہا ہوں اور اُس گلی میں سے جو مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکانات کے نیچے ہے اپنے مکان میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔وہاں مجھے بہت سی باوردی پولیس دکھائی دیتی ہے پہلے تو اُن میں سے کسی نے مجھے اندر داخل ہونے سے روکا، مگر پھر کسی نے کہا یہ گھر کا ہی آدمی ہے اسے اندر جانے دینا چاہئے۔جب ڈیوڑھی میں داخل ہو کر اندر جانے لگا تو وہاں ایک تہہ خانہ ہوا کرتا تھا جو ہمارے دادا صاحب مرحوم نے بنایا تھا۔ڈیوڑھی کے ساتھ سیڑھیاں تھیں جو اس تہہ خانہ میں اترتی تھیں۔بعد میں یہاں صرف ایندھن اور پیپے پڑے رہتے تھے۔جب میں گھر میں داخل ہونے لگا تو میں نے دیکھا کہ پولیس والوں نے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا ہوا ہے اور آپ کے آگے بھی اور پیچھے بھی اوپلوں کا انبار لگا یا ہوا ہے۔صرف آپ کی گردن مجھے نظر آ رہی ہے اور میں نے دیکھا کہ وہ سپاہی ان اوپلوں پر مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔جب میں نے انہیں آگ لگاتے دیکھا تو میں نے آگے بڑھ کر آگ بجھانے کی کوشش کی۔اتنے ، دو چار سپاہیوں نے مجھے پکڑ لیا۔کسی نے کمر سے اور کسی نے قمیص سے اور میں سخت گھبرایا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ اوپلوں کو آگ لگا دیں۔اسی دوران میں اچانک میری نظر او پر اٹھی اور میں نے دیکھا کہ دروازے کے اوپر نہایت موٹے اور خوبصورت حروف میں یہ لکھا ہوا ہے کہ : - ” جو خدا کے پیارے بندے ہوتے ہیں اُن کو کون جلا سکتا ہے“ تو اگلے جہان میں ہی نہیں یہاں بھی مؤمنوں کے لئے سلامتی ہوتی ہے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایسے بیسیوں واقعات دیکھے کہ آپ کے پاس گونہ تلوار تھی نہ کوئی اور سامانِ حفاظت مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کے سامان کر دیئے۔امام جماعت احمدیہ کے قتل کی نیت ابھی ایک کیس میں ایک ہندوستانی عیسائی کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے۔اُس کا جرم یہ تھا کہ اُس سے آنیوالا ایک ہندوستانی عیسائی نے غصہ میں آ کر اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔جب مقدمہ ہوا تو مجسٹریٹ کے سامنے اُس نے