انوارالعلوم (جلد 16) — Page 354
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ میں اُس کی ملازمت کے لئے کہیں سفارش کر دوں۔میں نے کہا غور کروں گا۔اس طرح اُسے چند دن ہمارے ہاں ٹھہر نا پڑا۔وہ اپنے متعلق کہا کرتی تھی کہ میرا رنگ اتنا سفید نہیں جتنا ہونا چاہئے اور واقعہ یہ تھا کہ اُس کا رنگ صرف اتنا کالا نہیں تھا جتنا حبشیوں کا ہوتا ہے۔میں اُن دنوں تبدیلی آب و ہوا کے لئے دریا پر جا رہا تھا اور اتفاقاً اُن دنوں میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب ( مرحوم جو میرے سالے تھے ) وہ بھی قادیان آئے ہوئے تھے۔انہوں نے ایک انگریز عورت سے شادی کی ہوئی ہے، وہ بھی میرے ساتھ چل پڑے کیونکہ اُن کی ہمشیرہ اُمم طاہر مرحومہ اس سفر میں میرے ساتھ جارہی تھیں۔اُن کی بیوی نے اُس اُستانی کی بھی سفارش کی کہ میری ہم جولی ہو گی اسے بھی ساتھ لے لو، چنانچہ اسے بھی ساتھ لے لیا۔وہاں پہنچ کر ہم نے دوکشتیاں لیں۔ایک میں میں ، اُم طاہر اور میری سالی تھی اور دوسری میں وہ اُستانی، میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے۔کشتیاں پاس پاس چل رہی تھیں۔اتنے میں مجھے آوازیں آنی شروع ہوئیں وہ اُستانی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سے باتیں کر رہی تھی کہ فلاں وجہ سے میرا رنگ کالا ہو گیا ہے اور میں فلاں فلاں دوائی رنگ کو گورا کرنے کے لئے استعمال کر چکی ہوں آپ چونکہ تجربہ کار ہیں اس لئے مجھے کوئی ایسی دوا بتائیں جس سے میرا رنگ سفید ہو جائے اور ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ فلاں دوائی استعمال کی ہے یا نہیں؟ اُس نے جواب دیا کہ وہ بھی استعمال کر چکی ہوں غرض اِسی طرح اُن کی آپس میں باتیں ہو رہی تھیں۔مجھے ان کی باتوں سے بڑا لطف آ رہا تھا۔وہ ڈاکٹر صاحب سے بار بار کہتی تھی کہ ڈاکٹر صاحب یہ بیماری ایسی شدید ہے کہ باوجود کئی علاجوں کے آرام نہیں آتا حالانکہ یہ تو کوئی بیماری تھی ہی نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ رنگ تھا۔سید حبیب اللہ شاہ صاحب بچپن میں میرے بہت دوست ہو ا کرتے تھے اور بعد میں بھی میرے اُن سے گہرے تعلقات رہے۔انہیں قرآن مجید پڑھنے کا بہت شوق تھا وہ اُس وقت بھی کشتی میں حسب عادت اونچی آواز میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔میں یہ تماشہ دیکھنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب اُس کا رنگ کس طرح سفید کرتے ہیں۔آخر تھوڑی دیر کے بعد سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے قرآن کریم بند کیا اور درمیان میں بول پڑے اور اُسے کہنے لگے ڈاکٹر صاحب تم کو کوئی نسخہ نہیں بتا سکتے اس دنیا میں تمہارا رنگ کالا ہی رہے گا البتہ ایک نسخہ میں تمہیں بتا تا ہوں قرآن کریم میں لکھا ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے گا اُس کا قیامت کے دن مُنہ سفید ہو گا۔پس اس دنیا میں تو تمہارا رنگ سفید نہیں ہو سکتا ، تم قرآن پر عمل کرو تو قیامت کے