انوارالعلوم (جلد 16) — Page 346
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ ہو پس سَقَهُمْ رَبُّهُمْ شَرَاباً طَهُورًا کے معنے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اُن کو ایسی شراب پلائے گا جو اُن کے دلوں کو بالکل پاک کر دے گی۔معلوم ہوا کہ وہ شراب صرف نام کے لحاظ سے شراب ہے ورنہ اصل میں کوئی ایسی چیز ہوگی جس سے دل پاک ہوں گے۔پھر طھور کے لفظ سے جس کے معنے پاک کرنے والی هے اور پاک شے کے ہوتے ہیں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ شراب چیزوں کو سٹڑا کر نہیں بنائی جائے گی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حُسن کہنے کے نتیجہ میں پیدا ہوگی۔اسی طرح ایک اور لطیف اشارہ اِس میں یہ کیا گیا ہے کہ شراب خود گندی ہوتی ہے اور جو چیز آپ گندی اور سڑی ہوئی ہو وہ دوسروں کو بھی گند میں مبتلاء کرتی ہے مگر فر مایا وہ شراب نہ خود سڑی ہوئی ہوگی اور نہ دوسروں کو گند میں مبتلاء کرے گی ، گویا اس کے دونوں طرف پاکیزگی ہوگی۔وہ نہ آپ گندی اور سڑی ہوئی ہوگی اور نہ دوسروں کو گندگی میں مبتلاء کرے گی۔تسنیم واٹر، پھر فرماتا ہے وَمِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِهُم ۵۳ اس شراب میں ایک پانی ملا یا جائے گا جو شرف ، بلندی اور کثرت کا ہو گا جیسے انگریز شراب پیتے ہیں تو اُس میں سوڈا واٹر ملا لیتے ہیں۔اسی طرح فرمایا ہم اس شراب میں تسنیم واٹر ملائیں گے گویا وہاں بھی سوڈا واٹر ہو گا، مگر اُس کا نام ہو گا تسنیم واٹر۔اور تسنیم کے معنے بلندی ،شرف اور کثرت کے ہیں، گویا اُس پانی کو پی کر یہ تینوں باتیں انسان کو حاصل ہوں گی کیونکہ یہ معمولی پانی نہیں ہو گا بلکہ بلندی ، شرف اور کثرت کے چشمہ کا ہو گا جو جنت میں بہتا ہوگا اور عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ " یہ ایک ایسا چشمہ ہو گا جس سے مقرب لوگ پانی پئیں گے۔گویا دو گرو ہوں کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ایک گروہ تو وہ ہوگا جس کی شراب میں ذائقہ کے لئے تسنیم کا پانی ملایا جائے گا اور جب بھی وہ شراب پینا چاہیں گے انہیں اُس کے مطابق تسنیم کا پانی شراب میں ملانے کے لئے دے دیا جائے گا، مگر ایک اور گروہ مقربین کا ہوگا جنہیں معمولی مقدار میں تسنیم کا پانی نہیں دیا جائے گا بلکہ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ کے مطابق انہیں اجازت ہوگی کہ وہ جب بھی چاہیں تسنیم کے چشمہ سے پانی لے لیں جو بلندی ،شرف اور کثرت کا چشمہ ہو گا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنت میں جس شراب وغیرہ کا ذکر آتا ہے اُس سے مراد روحانی چیزیں ہیں اور نہ دُنیا میں کیا کبھی شرف ، بلندی اور کثرت کا پانی بھی ہوا کرتا ہے یا کوئی ایسی شراب بھی ہوا کرتی ہے جو سٹرے نہیں ؟ اور پھر وہ شراب ہی کیا ہے جس میں نشہ نہ ہو، بلکہ شراب میں جتنا زیادہ نشہ ہو اتنی ہی وہ اعلیٰ سمجھی جاتی ہے اور اسی قدر ہمارے شاعر اس کی