انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 333

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ پاؤں کی بیڑیاں اُسے ملنے دیتی ہیں اور نہ گردن کا طوق اُسے سر اٹھانے دیتا ہے۔یہ طوق اُن گناہوں ، غلطیوں اور بیوقوفیوں کا ہوتا ہے جو اُس کی گردن میں ہوتا ہے۔مختلف گناہ ، مختلف غلطیاں اور مختلف بیوقوفیاں وہ کر چکا ہوتا ہے اور اس کے نتائج اُس کے ارد گر دگھوم رہے ہوتے ہیں۔وہ چاہتا ہے کہ ان سے نجات حاصل کرے مگر انہوں نے اُس کو گردن سے پکڑا ہوا ہوتا ہے اور اُسے کوئی بھاگنے کی جگہ نظر نہیں آتی۔اسی طرح جو زنجیریں ہوتی ہیں وہ بد عادات کی ہوتی ہیں۔درحقیقت بد عادت اور بدعمل میں فرق ہے۔بد عمل ایک انفرادی شے ہے کبھی ہوا کبھی نہ ہو ا،مگر بد عادت ہمیشہ زنجیر کے طور پر چلتی ہے اور وہ انسان کو آزادی سے کوئی کام نہیں کرنے دیتی وہ چاہتا ہے کہ نماز پڑھے مگر اُسے عادت پڑی ہوئی ہے کہ کسی بُری مجلس میں بیٹھ کر شطرنج یا جوک یا تاش کھیلنے لگ جاتا ہے تو آب با وجود نماز کی خواہش کے وہ نماز پڑھنے نہیں جائے گا بلکہ شطر نج یا تاش کھیلنے چلا جائیگا۔اسی طرح بیڑیاں غلط تعلیموں کی ہوتی ہیں جو غلط مذاہب یا غلط قومی رواجوں کے ماتحت اس کے پاؤں میں پڑی ہوئی ہوتی ہیں اور جس طرح درخت زمین نہیں چھوڑ سکتا اسی طرح وہ انسان اپنی قوم سے الگ نہیں ہو سکتا۔تب میں حیران ہوا کہ اوہو! انسان تو اپنے آپ کو آزاد سمجھ رہا تھا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک خطرناک قیدی ہے۔اس کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں، اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہیں اور اس کے گلے میں طوق ہیں۔پس یہ تو پہلے ہی غلام ہے اور غلام بھی ایسے ظالم مالک کا جو اُ سے ہر وقت تباہی کی طرف لئے جاتا ہے۔پس میں نے کہا جب انسان پہلے ہی غلام ہے اور غلام بھی ایسے مالک کا جو اسے کچھ نہیں دیتا تو اس دوسری غلامی کے اختیار کر لینے میں اس کا کیا حرج ہے اس کے ساتھ تو ایک جنت کا وعدہ بھی ہے۔تب میں نے اُس داروغہ کی طرف داروغہ جنت نے تمام بیڑیاں کاٹ دیں! دیکھا جس کے سپر د مجھے کیا گیا تھا اور میں نے یہ کہنا چاہا کہ اب تم مجھے اپنی بیٹیاں اور زنجیریں اور طوق ڈال دو میں پہلے ہی غلام تھا اور اب بھی غلام بنے کو تیار ہوں ، مگر میں نے یہ عجیب بات دیکھی کہ بجائے اس کے کہ اُس داروغہ کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں ، بیٹیاں اور طوق ہوں اُس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا کلہاڑا تھا اور جب میں نے کہا میں غلام بنے کو تیار ہوں ، تو وہ داروغہ محبت سے میری طرف دیکھنے لگا اور بجائے اس کے کہ میرے گلے اور ہاتھوں اور پاؤں میں نئی جہتھکڑیاں ، نئی بیڑیاں اور نئے طوق ڈالتا اُس نے مجھے اپنے پاس بٹھا کر اُس کلہاڑے سے میری سب زنجیریں، سب بیڑیاں اور سب طوق