انوارالعلوم (جلد 16) — Page 308
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ گو وہ جلا کر ہوا میں اُڑا دیا گیا مگر پھر بھی قرآنی اصطلاح میں اُسے قبر والا ہی قرار دیا گیا ہے۔غرض اوّل تو قرآن کریم خدا کا کلام ہے جسے سب کچھ علم ہے، لیکن اگر نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہی سمجھ لیا جائے تب بھی آپ پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ بعض لوگ دفن نہیں ہوتے بلکہ جلائے جاتے ہیں۔پس با وجودلوگوں کے ڈوبنے ، جلنے اور درندوں اور پرندوں کے پیٹ میں جانے کے پھر بھی قبر کے لفظ کا استعمال بتاتا ہے کہ قبر سے مراد وہی مقام ہے جس میں سب ارواح رکھی جاتی ہیں نہ که مادی قبر جو ہر ایک کو نصیب نہیں۔غرض قرآن کریم نے وہ مقبرہ پیش کیا ہے کہ رشتہ دارمیت سے خواہ کچھ سلوک کریں وہ اُسے جلا دیں، وہ اُس کی ہڈیاں پیس دیں، وہ اُسے چیلوں اور کتوں کے آگے ڈال دیں اور اُس سے کیسی ہی بے انصافی کریں اللہ تعالیٰ خود اُس کے لئے مقبرہ بناتا ہے اور اُسے زندگی بخش کر اپنے پاس جگہ دیتا ہے اور اس میں کافر اور مؤمن کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔مرنے والے کے لواحقین اپنے مذہب کے غلط عقائد کے ماتحت اُسے کتوں کے آگے ڈال دیتے ہیں، وہ اپنے مذہب کے غلط عقائد کے ماتحت اُسے چیلوں اور گدھوں کو کھلا دیتے ہیں ، مگر خدا کا فر اور مؤمن سب کی ارواح کو قبر میں جگہ دیتا ہے۔ہر شخص کا روحانی مقبرہ اُس کے اعمال کے مطابق ہو گا اب یہ سوال پیدا ہوتا ہوگا ہے کہ کیا ہر ایک کا مقبرہ اُس کے اعمال کے مطابق ہو سکتا ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ ہر شخص کا مقبرہ اس کے عمل کے مطابق ہو؟ دنیا میں بڑے بڑے فریبی اور دغا باز ہوتے ہیں جن کی عمریں فریب اور دعا میں ہی گزر جاتی ہیں مگر ظاہر میں وہ بڑے متقی اور پرہیز گار دکھائی دیتے ہیں اور ان کے دل میں تو کچھ ہوتا ہے مگر ظاہر کچھ کرتے ہیں۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب سنایا کرتے تھے کہ ایک انگریز سرحد میں جا کر دس سال تک لوگوں کو نمازیں پڑھاتا رہا اور کسی کو یہ احساس تک نہ ہوا کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ انگریز ہے۔اسی طرح برشن ایک عیسائی تھا جو نام بدل کر حج کے لئے چلا گیا۔اب فرض کرو وہ شخص اُسی جگہ مر جاتا تو لوگ اُس کا مقبرہ بنا دیتے اور اُس پر لکھ دیتے کہ یہ فلاں حاجی صاحب تھے جو حج کرنے کے لئے آئے اور مکہ میں ہی فوت ہو گئے حالانکہ وہ منافق تھا۔اسی طرح ہزاروں ایسے آدمی ہوتے