انوارالعلوم (جلد 16) — Page 306
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ درست نہیں سمجھتے ہمارے نزدیک قرآن کے مصنف نَعُوذُ بِاللهِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور انہوں نے اَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ کے الفاظ اس لئے استعمال کئے ہیں کہ انہیں اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ بعض لوگ اپنے مُردوں کو جلا بھی دیتے ہیں وہ یہی سمجھتے تھے کہ سب لوگ مُردوں کو دفن کرتے ہیں اس لئے انہوں نے اَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ کے الفاظ استعمال کر دیئے پس آیت کا یہ حصہ ان کی ناواقعی پر دلالت کرتا ہے۔اس سے یہ کس طرح ثابت ہو گیا کہ سمندر میں ڈوبنے والا بھی کسی قبر میں جاتا ہے اور درندوں کے پیٹ میں جانے والا بھی کسی قبر میں جاتا ہے اور جسے راکھ بنا کر اُڑا دیا گیا ہو وہ بھی کسی قبر میں جاتا ہے اور پھر ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُٹھائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کو جلانے والوں کا علم نہیں تھا تو آیا ڈوبنے والوں کا علم تھا یا نہیں ؟ مکہ سے سمندر چالیس میل کے فاصلہ پر ہے اور کشتیاں اُس زمانہ میں بھی چلا کرتی تھیں اور ڈوبنے والے ڈوبتے تھے پس اگر مان بھی لیا جائے کہ آپ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ کچھ لوگ اپنے مُردے جلاتے ہیں تو کم از کم آپ کو یہ تو معلوم تھا کہ بعض لوگ ڈوب جاتے ہیں اور وہ قبر میں دفن نہیں ہو سکتے۔پھر اس کو بھی جانے دو کیا مکہ میں کبھی کسی گھر میں آگ لگتی تھی یا نہیں اور کیا آپ نہیں جانتے تھے کہ بعض لوگ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں؟ پھر کیا مکہ کے ارد گرد جو کچھ فاصلہ پر جنگلات ہیں وہاں کے شیر اور بھیڑیئے مشہور نہیں تھے ؟ اور کیا آپ کے زمانہ میں یہ جانور کبھی کسی آدمی کو پھاڑ کر کھاتے تھے یا نہیں؟ اور آپ کو علم تھا یا نہیں کہ قبر میں دفن ہونے کے علاوہ ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جنہیں شیر اور بھیڑیئے کھا جائیں؟ جو آگ میں جل کر مر جائیں اور جو سمندر میں ڈوب مریں ؟ پھر اس کو بھی جانے دوعرب کے ساحل کے ساتھ مجوسی لوگ تھے اور وہ اپنے مُردوں کو دفن نہیں کرتے تھے بلکہ چیلوں یا گتوں کو کھلا دیا کرتے تھے۔یہ لوگ بوجہ عرب کے قُرب کے آپ کو ملتے تھے بلکہ ان لوگوں میں سے بعض مسلمان بھی ہوئے آپ ان کے حالات کو خوب جانتے تھے اور یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ آپ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ بعض قو میں اپنے مُردے جلا دیا کرتی ہیں۔پھر کیا عجیب بات نہیں کہ جب یہ لوگ قرآن کریم کی جامع و مانع تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجوسیوں اور یہودیوں کی تعلیم سے واقف تھے ، آپ نے ان کی اچھی باتیں اپنی کتاب میں درج کر لیں حتی کہ بعض لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ آپ نے فلاں فلاں بات ویدوں سے لی ہے مگر دوسری طرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ کو یہ