انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 305

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) یا عذاب ملتا ہے یہ ظاہری قبر ہی ہے۔وہ قبر وہ ہے جس میں خدا تعالیٰ خود انسان کو ڈالتا ہے چنانچہ اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ذَلِكَ بِاَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَانَّهُ يُحْيِ الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ فرماتا ہے ہم نے جو بات کہی ہے کہ اللہ ہی اصل چیز ہے اور وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر بات پر قادر ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے جس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں وَانَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِى الْقُبُورِ۔اور یہ کہ قیامت کے دن جو لوگ قبروں میں ہونگے اللہ تعالیٰ اُن کو زندہ کر دیگا۔اب اگر قبر سے مراد یہی ظاہری قبر ہو تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ قیامت کے دن صرف مسلمان زندہ کئے جائیں گے۔ہند و جو اپنے مُردے جلا دیتے ہیں ، پارسی جو اپنے مُردے چیلوں کو کھلا دیتے ہیں اور عیسائی کہ وہ بھی اب زیادہ تر مردوں کو جلاتے ہیں زندہ نہیں کئے جائیں گے۔عیسائی پہلے تو مُردوں کو دفن کیا کرتے تھے مگر اب بجلی سے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔پس اگر یہی مفہوم ہو تو لازم آئے گا کہ قیامت کے دن مسلمانوں کے سوا اور کوئی زندہ نہ ہو کیونکہ مَنْ فِی الْقُبُورِ کی حالت اب دنیا کے اکثر حصہ میں نہیں پائی جاتی۔اس صورت میں مسلمان اور یہودی تو اپنے اعمال کا جواب دینے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے مگر باقی سب چھوٹ جائیں گے۔پس یہ معنے درست نہیں بلکہ اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان قبروں میں سے جو اُس کی بنائی ہوئی ہیں سب مردوں کو زندہ کرے گا اور ان خدائی قبروں میں وہ بھی دفن ہوتے ہیں جو مادی قبروں میں دفن ہیں اور وہ بھی جو جلائے جاتے ہیں اور وہ بھی جن کو درندے یا کیڑے مکوڑے کھا جاتے ہیں۔پس أَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس سے مراد وہی قبر ہے جس میں خدا رکھتا ہے ، وہ قبر نہیں جس میں انسان رکھتا ہے۔اور سب مُردوں کو خواہ وہ دریا میں ڈوب جائیں ،خواہ انہیں پرندے کھا جائیں، خواہ وہ جلائے جائیں قبر والا قرار دیا گیا ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قبر اصل میں وہ مقام ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہر روح کو رکھتا ہے خواہ وہ مٹی کی قبر میں جائے ، خواہ ڈوب کر مرے اور خواہ جلایا جائے۔ایک اعتراض اور اُس کا جواب اس مقام پر کوئی شخص اعتراض کر سکتا ہے کہ تم بیشک مانتے ہو کہ قرآن خدا کا کلام ہے مگر ہم تو اسے