انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 304

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ کھا گئے ہوں ، ہر شخص کا مقبرہ یہاں موجود تھا ، غرض چھوٹے بڑے، امیر غریب، عالم جاہل سب کو مقبرہ حاصل تھا۔میں نے جب اس مقبرہ کو دیکھا تو کہا دنیا نے بہتیری کوشش کی کہ لوگوں کی قبروں کو مٹا ڈالے اور حوادث زمانہ نے بھی نشانوں کو محو کرنے میں کوئی کمی نہ کی مگر پھر بھی ایک نہ ایک مقام تو ایسا ہے جس میں تمام انسانوں کے مقبرے موجود ہیں۔ثواب عذاب ظاہری قبر میں نہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس آیت میں قبر کا لفظ جو آتا ہے اس سے مراد وہ مقام ہے جس میں بلکہ عالم برزخ کی قبر میں ملاتا ہے مرنے کے بعد ارواح رکھی جاتی ہیں خواہ مؤمن کی روح ہو یا کافر کی ، سب کی روحیں اس مقام پر رکھی جاتی ہیں اور در حقیقت یہی قبر ہے جس میں ثواب یا عذاب ملتا ہے۔وہ جو حد یثوں میں آتا ہے کہ مرنے کے بعد کافروں کو قبر کا عذاب دیا جاتا ہے اس سے مراد یہی قبر ہے ظاہری قبر مراد نہیں کئی بیوقوفوں کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے بعض منافقین کی قبریں کھولیں یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا قبر میں اُن کے لئے دوزخ کی کھڑکی گھلی ہے یا نہیں ؟ مگر جب انہوں نے قبر کو کھولا تو انہیں کوئی آثار دکھائی نہ دیئے۔در حقیقت یہ ان کی غلطی تھی، اگر اسی قبر میں ثواب و عذاب ہو تو وہ پارسی جو اپنے مُردے چیلوں کو کھلا دیتے ہیں، وہ ہندو جو اپنے مُردوں کو جلا دیتے ہیں اور وہ لوگ جو ڈوب یا جل کر مر جاتے ہیں اُن کو تو قبر کا عذاب یا ثواب ملے ہی نہ۔کیونکہ اُن کی تو قبریں ہی نہیں بنیں صرف مسلمان اسلام پر عمل کر کے گھاٹے میں رہے مگر یہ بات غلط ہے۔اور حدیث میں تو ظاہری قبر مراد نہیں، ظاہری قبر میں تو بعض دفعہ یکے بعد دیگرے ہیں ہیں مُردوں کو دفن کر دیا جاتا ہے اور ہر شہر میں یہ نظارہ نظر آتا ہے۔ایک قبر بنائی جاتی ہے مگر پندرہ بیس سال کے بعد اُس کا نشان مٹ جاتا ہے اور اُس جگہ اور قبر بن جاتی ہے۔لاہور کا قبرستان پانچ سو سال سے چلا آ رہا ہے، اس میں ایک ایک قبر میں پندرہ پندرہ بیس ہیں آدمی دفن ہو ہو نگے۔ایسی حالت میں ان میں سے کوئی تو شدید دوزخی ہوا اور کوئی اونی قسم کا دوزخی ہوگا، کوئی اعلیٰ جنتی ہو گا اور کوئی ادنی جنتی ہو گا۔اگر دوزخ اور جنت کی کھڑ کی اسی قبر میں کھلتی ہو تو بالکل ممکن ہے کہ پہلے ایک دوزخی اُس میں دفن ہو اور پھر کوئی جنتی اُس میں دفن ہو جائے۔ایسی صورت میں لازماً دوزخ کی آگ جنتی کو لگے گی اور جنت کی ہوا دوزخی کو پہنچے گی اور ثواب وعذاب بالکل مضحکہ خیز صورت اختیا ر کر لیں گے۔پس یہ غلط ہے کہ وہ قبر جس میں ثواب