انوارالعلوم (جلد 16) — Page 292
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) میری گل کی تقریر سے بعض دوستوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ کوئی کارروائی میرے مد نظر ہے حالانکہ میں نے وضاحت سے کہہ دیا تھا کہ یہ معاملہ ابھی میرے زیر تحقیق ہے اور بالکل ممکن ہے کہ تحقیق کے بعد ہمیں اپنی رائے کو بدلنا پڑے۔گو ہمیں شبہات ہیں اور قوی شبہات ہیں مگر انسان صحیح حالات کے معلوم ہونے پر ہر وقت اپنی رائے کو بدل سکتا ہے پس ممکن ہے تحقیق کے بعد ہمیں اپنی رائے بدلنی پڑے۔یا یہ معاملہ محبت اور پیار سے سلجھ جائے اور پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ماتحت افسروں کی رپورٹیں تو درست نہ ہوں مگر حکومت پنجاب شریفانہ رویہ اختیار کرے۔پھر کسی قوم کے خلاف رائے رکھنے کی محض اس لئے اجازت نہیں ہو سکتی کہ اس قوم کے بعض افراد مخالف ہیں۔اگر بالفرض حکومت پنجاب ہمارے خلاف فیصلہ دے دے گی تو حکومت ہند کے پاس جانے کا دروازہ ہمارے لئے کھلا ہے۔پس پیشتر اس کے کہ ہم کوئی بُری رائے قائم کریں ہمارا فرض ہوگا کہ ہم حکومت ہند کو توجہ دلائیں اور اگر حکومت ہند بھی انصاف کی طرف توجہ نہ کرے تو ہمارا فرض ہو گا کہ انگلستان کی حکومت کے سامنے ہم اس معاملہ کو رکھیں۔پس اگر میرے الفاظ سے کسی دوست کو یہ غلط فہمی ہوئی ہو کہ قریب ترین عرصہ میں میں اس کے متعلق کوئی قدم اُٹھانے والا ہوں تو اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ یہ بات بالکل غلط ہے اور اگر میرے کسی لفظ سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہو تو وہ لفظ غلط طور پر میری زبان سے نکلا ہوگا۔میں نے جیسا کہ خطبہ میں بھی بیان کیا تھا ہم پوری طرح حکومت کو اصلاح کا موقع دیں گے کیونکہ اسلام کا یہ طریق نہیں کہ بغیر کسی پر مجبت تمام کرنے کے الزام عائد کر دیا جائے۔درمیانی غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی اصلاح کا انسان کو ہر وقت موقع ہوتا ہے اور بالکل ممکن ہے کہ اس وقت ہمیں حکومت کے بعض افسروں کی جو غلطیاں نظر آتی ہیں ان کی وہ اصلاح کر لیں اس لئے ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم ابھی سے ان کے متعلق کوئی بُری رائے قائم کر لیں اور فیصلہ کر لیں کہ وہ ہم سے انصاف نہیں کریں گے اگر ہم ایسا خیال کریں تو یہ ہماری بے انصافی ہوگی۔پس دوستوں کو صبر کے ساتھ اُس وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔جب میں یہ اعلان کروں کہ ہم نے حکومت کے ہر حصہ کو اصلاح کا پورا موقع دے دیا ہے مگر پھر بھی اس نے اپنی اصلاح نہیں کی اس کے بعد ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ جو تجویز اس ظلم کے ازالہ کے لئے میں کروں اس میں حصہ لینے کے کون کون دوست اہل ہیں۔ممکن ہے وہ کوئی ایسی تجویز ہو جس میں سرکاری ملازمین حصہ نہ لے سکتے ہوں۔اسی طرح اور کئی تجاویز ہو سکتی ہیں جو میرے ذہن میں تو ہیں مگر میں اُن کو ظاہر نہیں کرتا اور ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔پس ابھی دوستوں کو نام پیش