انوارالعلوم (جلد 16) — Page 291
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) بِسْمِ اللهِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ سیر روحانی (۳) ( تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء بر موقع جلسه سالا نہ قادیان) (9)۔تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- (۱)۔پہلے تو میں عید کے متعلق دوستوں کو یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ جو دوست گل ٹھہریں گے اور ٹھہر سکیں گے اُن کو معلوم ہو کہ گل اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالَی نو بجے اِس جگہ عید کی نماز ہوگی۔عید گاہ تو دوسری جگہ ہے مگر مجھے کہا گیا ہے کہ آج کی تقریر کے بعد لاؤڈ سپیکر کا انتظام وہاں فوراً کیا جانا مشکل ہے اور چونکہ دوست زیادہ ہونگے اور خطبہ کی آواز بغیر لاؤڈ سپیکر کے اُن تک نہیں پہنچ سکے گی اس لئے یہی تجویز کی گئی ہے کہ اسی مقام پر نماز عید ادا ہوا ور چونکہ یہ عید معاً جلسہ کے بعد آ گئی ہے اور وہ دوست جو ملاقاتیں کر کے واپس جانا چاہتے ہیں اُن کی سہولت بھی مد نظر ہے اس لئے میں نے تجویز کی ہے کہ کل عین نو بجے نماز عید شروع ہو جائے اور پھر مختصر سے خطبہ کے ساتھ عید کو ختم کر دیا جائے تا کہ جانے والے اصحاب جنہوں نے ابھی تک ملاقات نہیں کی مل لیں اور گاڑی پر پہنچنے والے گاڑی پر پہنچ سکیں۔عام طور پر ہم عید میں آنے والوں کی شستی کو دیکھ کر مقررہ وقت سے گھنٹہ سوا گھنٹہ بڑھا دیا کرتے ہیں تا کہ جو سست ہیں وہ بھی آجائیں مگر گل غالباً مہمانوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا نہیں ہوگا اس لئے دوست نو بجے کے معنے نو بجے ہی سمجھیں۔(۲)۔اس کے بعد پیشتر اس کے کہ میں اپنا مضمون شروع کروں گل کے لیکچر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔مجھے بعض دوستوں کے خطوط سے ایسا معلوم ہوا ہے کہ میری گل کی تقریر کی بعض باتوں سے کچھ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے چنانچہ بعض دوستوں کی مجھے چٹھیاں آئی ہیں کہ ڈلہوزی کے واقعہ کے متعلق جو اعلان کیا گیا تھا اس سلسلہ میں ہم اپنا نام پیش کرتے ہیں۔گویا