انوارالعلوم (جلد 16) — Page 275
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور آئیے عرب صاحب! آئیے عرب صاحب! تو جہاں جہاں احمدیت پھیلے گی وہاں جو ہندوستانی جائے گا وہاں کے احمدی اس کی عزت کریں گے اور کہیں گے کہ یہ ہمارے سردار ہیں۔اُس ملک سے آئے ہیں جس میں قادیان واقع ہے۔انہیں عزت سے بٹھا ئیں گے اور ان کے لئے کھانے پینے کا انتظام کریں گے تو اسلام اور احمدیت کی ترقی کے ساتھ ہندوستانیوں کی عزت بھی بڑھے گی اور ہر جگہ احمدی ان کی عزت کریں گے۔یہاں سے چونکہ انہیں ہدایت حاصل ہوئی ہوگی اس لئے اس ملک کے ہر باشندہ کو خواہ وہ ہندو ہو یا سکھ ، عیسائی ہو یا کسی اور مذہب کا ، دیار محبوب کا باشندہ سمجھ کر اس کی عزت کریں گے۔اب دیکھو! اس عزت کے مقابل میں سوراج کی حقیقت ہی کیا ہے مگر افسوس کہ ہندوؤں نے اس سوال کو اس نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا۔پہلے جو نبی آتے تھے وہ مخصوص قوموں اور مخصوص ملکوں کے لئے ہوتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کی ہدایت کے لئے مامور فرمایا ہے اور احمدیت نے دنیا کے کناروں تک پھیلنا ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے کناروں تک ہندوستانیوں کا روحانی ادب اور رُعب قائم کرے گا۔میں نے سوراج کا ذکر کیا ہے پہلے جنگی خطرات کا ذکر میں کر چکا ہوں اس لئے ضمناً اس کے متعلق بھی کچھ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔یہ سوال بہت اہم ہے اور موجودہ وقت میں حکومت اور رعایا میں لڑائی بہت نازک اور خطرناک ہے اور ملک کا ہر ایک بہی خواہ اسے دور کرنے کی کوشش میں ہے۔اس وقت کانگرس مملکی حکومت کے لئے مطالبہ کر رہی ہے۔مسلم لیگ اس کی اس وجہ سے مخالف ہے کہ جب تک مسلمانوں کے حقوق کا فیصلہ نہ ہو کوئی نیا نظام قائم نہیں کرنا چاہئے اور حکومت کہہ رہی ہے کہ جب تک ہند و مسلمان متحد نہ ہوں ہم کچھ نہیں دے سکتے۔اس میں شبہ نہیں کہ ان تینوں میں اس وقت اختلافات ہیں اور ہم جو نہ تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں۔یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ موقع بہت اہم ہے۔اس وقت ملکی فضاء کو درست کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی کارروائی ضرور کرنی چاہئے تا ملک سے فساد دور ہو مگر افسوس ہے کہ جتنا یہ سوال اہم ہے اتنا ہی اس کی طرف وہ توجہ نہیں دی جا رہی جو دی جانی چاہئے۔اور حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں ہی سنجیدگی سے کام نہیں لے رہے۔پہلے میں حکومت کی پوزیشن کو لیتا ہوں۔انگریز کہتے ہیں کہ پہلے ہندو مسلمان متحد ہوں اور کوئی متفقہ مطالبہ پیش کریں پھر ہم مزید حقوق دینے کے سوال پر غور کریں گے اور بظاہر یہ بات معقول نظر آتی ہے اور انسان خیال کرتا ہے کہ انگریز بے چارے کیا کریں۔