انوارالعلوم (جلد 16) — Page 276
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور جب یہ دونوں قومیں آپس میں پہلے ہی لڑ رہی ہیں تو اگر انگریز حقوق دے بھی دیں تو اور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی مگر غور کیا جائے تو یہ جواب درست نہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر ہند و مسلمان آپس میں صلح کر لیں اور کامل آزادی کا مطالبہ کریں تو کیا انگریز یہ مطالبہ پورا کر دیں گے اور ہندوستان کو مکمل آزادی دے دیں گے؟ میں نے تو کبھی ان کی طرف سے کوئی ایسا اعلان نہیں پڑھا اور جب وہ اس کے لئے تیار ہی نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مزید حقوق کے لئے اس اختلاف کو غذر بنایا جائے اور کہا جائے کہ اگر ہندو مسلم صلح کر لیں تو ہندوستان کو مزید حقوق مل جائیں گے۔اگر حکومت کی نیت واقعی یہ ہوتی کہ ہند و مسلمان آپس میں صلح کر لیں تو اُسے چاہئے تھا کہ بتا دیتی کہ اگر یہ صلح ہوئی تو وہ کیا حقوق دے گی اور یہ کہ اگر ہندو مسلمانوں نے صلح نہ کی تو وہ کیا قدم اُٹھائے گی۔اگر ہندو مسلم اتفاق کے بعد بھی وہ آزادی کامل دینے کے لئے تیار نہیں تو پھر اس کا یہ جواب صریحاً غلط ہے جو وہ کانگرس کو دیتی ہے۔گورنمنٹ کا یہ جواب اس لئے بھی غلط ہے کہ وہ پہلے ہندو مسلمانوں اور سکھوں میں اختلافات کے باوجود بعض حقوق دے چکی ہے۔گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۳۵ء جو ہے اس کے متعلق بھی تو ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں میں اتفاق نہ تھا اور اس اتفاق کے نہ ہونے کے باوجود اس نے حقوق دے کر یہ بتا دیا ہے کہ ہندوستان کو حقوق دینے کے لئے وہ ان قوموں کے اتحاد کو ضروری نہیں سمجھتی۔پھر جب وہ پہلے ایسا کر چکی ہے تو اب یہ شرط کیوں لگاتی ہے ؟ ہاں اگر انگریز ہندوستان کو بالکل اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہتے ہوں (جس طرح ڈومینیئنز (DOMINIONS) کو ان کے حال پر چھوڑا گیا ہے ورنہ میں اس قسم کی آزادی کا قائل نہیں کہ ہندوستان برطانوی امپائر سے الگ ہو جائے۔یہ زمانہ ملکوں میں اتحاد پیدا کرنے کا ہے نہ کہ نئی کلی آزاد حکومتوں کے بنانے کا ) اور اس ملک کو کامل آزادی دے دینے کا فیصلہ کر چکے ہوں تو پھر حکومت کا یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ جب تک ہند و مسلمانوں میں صلح اور اتفاق نہ ہو ہم آزادی کیسے دیدیں کیونکہ جب مختلف قوموں میں اس وقت بھی فساد ہو رہے ہیں تو آزادی حاصل ہونے کے بعد اور زیادہ ہو نگے۔پس میرے نزدیک اگر گورنمنٹ واقعی ملک میں امن چاہتی ہے اور ہندو مسلمانوں میں صلح کی خواہش مند ہے تو اسے اعلان کر دینا چاہئے کہ اگر یہ قو میں متحد ہو کر اور متفقہ مطالبہ لے کر آئیں تو ہم ہندوستان کو کلی آزادی دے دیں گے۔یا پھر دوسری بات دیانت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ وہ اعلان کرے کہ اگر یہ صلح نہ ہوئی تو پھر اس کا رویہ کیا ہو گا۔مثلاً اسے اعلان کر دینا چاہئے کہ اس صورت میں وہ کچھ نہ دے گی اس سے بھی صلح