انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 258

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ علاقوں میں پھیل گئی ہے مگر وہ انگریزی حلقہ اثر میں آنے جانے میں رُکاوٹ نہیں کرتی۔اس خواب کا ایک پہلو تو وہ تھا کہ بعض انگریزی جزیروں میں امریکنوں نے اپنے لئے فوجی اڈے حاصل کئے تھے مگر ایک پہلو اس کا اب ظاہر ہو رہا ہے کہ امریکن حکومت بھی انگریزوں کے ساتھ مل کر برسرِ جنگ ہے اور اب ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ بالکل ممکن ہے کہ امریکن فوجوں کو ہندوستان میں بھی لانا پڑے اور سنگا پور جو پولیٹیکل لحاظ سے بہت اہم مقام ہے وہاں امریکن فوجوں کو لانے کا تو فیصلہ ہو چکا ہے۔پھر مجھے رویا میں دکھایا گیا کہ مارشل پیٹان کی حکومت بعض ایسی حرکات کر رہی ہے جن سے انگریزوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور مجھے تشویش پیدا ہوتی ہے کہ انگریز کس طرح مقابلہ کریں گے ان کی تو فرانس کے ساتھ صلح ہے اور ان کے راستہ میں یہ روک ہے کہ اگر اس سے لڑیں تو دنیا کہے گی کہ اپنے اتحادی سے لڑ رہے ہیں اتنے میں آواز آئی کہ یہ ایک سال کی بات ہے۔اصل بات یہ تھی کہ پہلے چونکہ فرانس کے ساتھ انگریزوں کی دوستی تھی اس لئے وہ پرانی دوستی کی وجہ سے اس پر حملہ نہ کر سکتے تھے یہ بات نہ تھی کہ فرانس کی طاقت جرمنی سے بھی زیادہ تھی اور انگریز اس سے ڈرتے تھے بلکہ وہ اس وجہ سے اس کا مقابلہ نہ کرنا چاہتے تھے کہ دنیا کہے گی کہ اپنے پرانے دوست پر حملہ کر دیا جب تک کہ ایسے حالات پیدا نہ ہو جاتے کہ ان کے لئے اس کا مقابلہ جائز کہلا سکتا وہ اس کے ساتھ تصادم نہ چاہتے تھے۔آخر عین ایک سال گزرنے پر عراق کی بغاوت نے وہ حالات پیدا کر دیے۔احباب کو یاد ہوگا ۱۹۳۷ء میں میں نے ایک رؤیا سنایا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بہت بڑا طوفان آیا ہے اور توپوں کے گولے بھی گر رہے ہیں میرے ساتھ میری بیویاں اور بچے بھی ہیں۔اس طوفان نے سب چیزوں کو ڈھانپ لیا ہے آخر اس کا زور کم ہوا اور میں نے ایک دروازہ میں سے نور کی شعاع دیکھی اور اپنی ایک بیوی سے کہا کہ دیکھونور نظر آ رہا ہے اور مجھے جو خدا تعالیٰ نے پہلے سے بتا چھوڑا تھا اسی طرح ہوا ہے اور طوفان دُور ہو گیا ہے۔میں نے اس کی تعبیر کی تھی کہ دنیا میں کوئی عظیم الشان تباہی غالبا جنگ کی صورت میں آنے والی ہے اور اس کے تھوڑا ہی عرصہ بعد یہ جنگ شروع ہو گئی تھی۔اس وقت مجھے اپنا ایک پرانا رؤیا یاد آ گیا۔جو غالبا ۱۹۲۲ء میں میں نے دیکھا تھا۔میں نے دیکھا تھا کہ مسجد مبارک کی چھت پر بہت شور ہے، لوگ چیختے اور روتے ہیں، میں دوڑا ہوا وہاں گیا اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو کسی نے بتایا کہ قیامت