انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 259

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور آ گئی۔مغرب کا وقت ہے اور کوئی سورج کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ وہ دیکھو! سورج مشرق کی طرف سے واپس آ رہا ہے اور یہ علامت قیامت کی ہے کہ سورج مغرب میں جانے کے بعد واپس لوٹ آیا ہے میں بھی گھبرا تا تو ہوں مگر سمجھتا ہوں کہ یہ قیامت نہیں ہے۔وہاں میں نے دیکھا کہ بھائی عبدالرحیم صاحب ٹہل رہے ہیں اور وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ قیامت آگئی مگر مجھے یکدم کچھ خیال آیا اور میں ان سے کہتا ہوں کہ سورج کا مغرب سے واپس لوٹنا بھی بے شک قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت تو ہے مگر اس کے ساتھ بعض اور شرطیں بھی ہیں اور وہ اس وقت ظاہر نہیں ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج کا مغرب سے اس وقت کا طلوع قیامت کی علامت نہیں ہے۔میں نے جونہی یہ کہا سورج یکدم ٹھہرا اور پھر واپس ہونا شروع ہو گیا۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ فتنہ جو مغرب سے اُٹھا ہے اور جو قیامت کا ایک نمونہ ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دُور کر دے گا۔اسی طرح ایک اور خواب میں نے پچھلے سال دیکھا تھا جس کا دوسرا حصہ اب پورا ہوا ہے۔میں شملہ میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے مکان پر تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک جگہ ہوں اور وہاں ایک بڑا ہال ہے جس کی سیڑھیاں بھی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا ملک ہے مگر نظر ہال آتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ سیڑھیوں میں سے اٹلی کی فوج لڑتی آ رہی ہے اور انگریزی فوج دیتی چلی جارہی ہے یہاں تک کہ اطالوی فوج ہال کے کنارے تک پہنچ گئی جہاں سے میں سمجھتا ہوں کہ انگریزی علاقہ شروع ہوتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ قادیان نزدیک ہی ہے اور میں بھاگ کر یہاں آیا ہوں۔مجھے میاں بشیر احمد صاحب ملے ہیں میں ان سے اور بعض اور دوستوں سے کہتا ہوں کہ اٹلی کی فوج انگریزی فوج کو دباتی چلی آ رہی ہے اگر چہ ہماری صحت اور بینائی وغیرہ ایسی تو نہیں کہ فوج میں باقاعدہ بھرتی ہو سکیں مگر بندوقیں ہمارے پاس ہیں آؤ ہم لے کر چلیں دُور کھڑے ہو کر ہی فائر کریں گے۔چنانچہ ہم جاتے ہیں اور دُور کھڑے ہو کر فائر کرتے ہیں اتنے میں میں نے دیکھا کہ انگریزی فوج اٹلی والوں کو دبانے لگی ہے اور اس نے پھر انہی سیڑھیوں پر واپس چڑھنا شروع کر دیا ہے جن پر سے وہ اتری تھی۔اُس وقت میں دل میں سمجھتا ہوں کہ دو تین بار اسی طرح ہوا ہے۔چنانچہ یہ خواب لیبیا میں پورا ہو چکا ہے۔جہاں پہلے دشمن مصر کی سرحد تک پہنچ گیا تھا مگر انگریزوں نے پھر اُسے پیچھے ہٹا دیا، پھر دشمن نے انگریزوں کو پیچھے ہٹا دیا، اور اب پھر انگریزوں نے ان کو پیچھے ہٹا دیا ہے اور یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال