انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 256

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور قومیں ہیں جو لڑ سکتی ہیں۔باقی بہار، بنگال اور یوپی کی باقی قومیں اور سی پی وغیرہ کے لوگ تو سب کشمیری ٹائپ کے ہیں اور لڑائی کے قابل نہیں ہیں۔کیونکہ ان میں فوجی ملکہ نہیں رہا اور قوموں میں بہادری صرف فوجی ملکہ کی وجہ سے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔آج کشمیری بُزدل سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں فوجی ملکہ نہیں رہا لیکن کسی وقت یہی قوم اتنی بہادر تھی کہ محمود غزنوی نے ہندوستان پر جتنے حملے کئے ان میں سے صرف دو میں اسے شکست ہوئی اور یہ دونوں وہی تھے جو کشمیر پر کئے گئے۔گویا کسی زمانہ میں اس قوم نے وہ کام کیا جو ہندوستان بھر میں کوئی اور قوم نہ کر سکی تھی لیکن آہستہ آہستہ جب اسے جنگی کاموں سے الگ کر دیا گیا اور اس میں فوجی ملکہ نہ رہا تو یہی بُزدل ہو گئی اور آج یہ حالت ہے کہ اگر کوئی پنجابی کوئی بُزدلی کا کام کرے تو کہتے ہیں چل کشمیری۔تو قوموں میں جب فوجی ملکہ نہیں رہتا تو وہ بزدل ہو جاتی ہیں۔عربوں نے ایک زمانہ میں کتنا کام کیا تھا مگر اب ان میں وہ بہادری نہیں۔اب کہتے ہیں کہ عرب بڑا لڑنے والا ہے مگر جب تک خون نہ ہے اور وہ لڑائی کونسی ہے جس میں خون نہ ہے۔پہلے یہی عرب کس طرح تلواروں سے کھیلتے تھے مگر اب خون کا بہنا بھی نہیں دیکھ سکتے۔اسی طرح ہم ہندوستانی بھی بدقسمتی سے ایک ایسے نظام کے نیچے آگئے کہ ہمارے حاکموں نے اس بات کی اہمیت کو نہ سمجھا اور ہندوستانیوں کو فوجی معاملات سے علیحدہ رکھا اور یہی چیز آج ان کے لئے وبال بن رہی ہے۔پہلے تو ان کو خیال تھا کہ اگر ہندوستانیوں نے جنگی فنون سیکھ لئے تو بغاوت کر دیں گے مگر آج ان کے دل حسرت کے ساتھ اپنی غلطی کو محسوس کر رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کو فوجی فنون سے واقفیت ہوتی تو ہمارے کام آ سکتے۔چین کی آبادی زیادہ ہے اور وہ جنگی فنون سے واقف ہیں اس لئے اُس نے جاپان کے دانت کھٹے کر دیئے ہیں۔اس کی آبادی چالیس کروڑ ہے۔دشمن ایک لاکھ مار دے گا ، دو لاکھ ، چار لاکھ، دس لاکھ مار دے گا آخر کتنے مارے گا اس کی آبادی چونکہ زیادہ ہے اس لئے وہ اور فوج میدان میں لے آتے ہیں۔تو اگر انگریزوں نے ہندوستانیوں کو بھی جنگ سے واقف کیا ہوتا تو جاپان حملہ کی کبھی جرات بھی نہ کر سکتا اور اب تو خطرہ ہے کہ جاپانی آگئے تو ہندوستان میں مقابلہ کی طاقت نہیں ہے۔انگریزوں کی طرف سے یہ اعلان کئے جاتے ہیں کہ ہندوستان میں نو دس لاکھ فوج بھرتی کی گئی ہے مگر اتنی فوج کے لئے سامان کہاں سے آئے گا۔اس فوج میں بعض سپاہیوں کے پاس چالیس چالیس سال کی پرانی بندوقیں ہیں اور بعض کے پاس تو صرف ڈنڈے ہیں بلکہ سب کے لئے وردیاں بھی نہیں اور