انوارالعلوم (جلد 16) — Page 255
بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ موقع دے اور رستہ مل جائے تو میرا ارادہ ہے کہ شمس صاحب کو اس کی ایک کاپی بھیج دوں۔اس وقت مختلف ممالک سے بھاگے ہوئے ہزاروں لوگ لنڈن میں پناہ گزین ہیں اور ان میں بعض بڑے بڑے قابل لوگ بھی ہیں۔شاعر ہیں ، ادیب ہیں ، ایڈیٹر ہیں، اور وہ تھوڑے تھوڑے گزارے لے کر بعض چھوٹے چھوٹے کام بھی بسر اوقات کے لئے کر رہے ہیں۔میرا ارادہ ہے کہ اگر ہو سکے تو ان ایام میں یورپ کی مختلف زبانوں مثلاً جرمنی، فرانسیسی ، اطالوی وغیرہ میں بھی ترجمہ کرا لیا جائے تو جنگ کے اختتام پر چھپ سکتا ہے۔اس وقت قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کی اشاعت میں روک پیدا ہو جانا کتنا بڑا نقصان ہے۔جو شخص اس کام کی اہمیت کو سمجھتا ہے وہ بخوبی اس کا اندازہ کر سکتا ہے۔خود مجھ پر یہ بہت بڑا بوجھ ہے اور سخت گراں گزر رہا ہے میں سمجھتا ہوں کہ میں نے ایک سکیم بنائی تھی اور سالہا سال کی محنت کے بعد یہ کام ختم ہوا اور اب اگر میں (خدانخواستہ ) مر جاؤں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جس عمارت کی بنیاد میں نے رکھی اور اس کی دیوار میں کھڑی کیں اسے چھت تک نہ پہنچا سکا۔دوسری بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ یہ جنگ اب ہندوستان کے کناروں تک آ گئی ہے۔پہلے تو جرمن مشرق کی طرف بڑھ رہے تھے وہ تو روس میں رُک گئے مگر ادھر سے جاپان نے جنگ شروع کر دی ہے۔رنگون پر بمباری ہو چکی ہے اور وہاں سے چند سو میل کے فاصلہ پر ہی ہندوستان ہے اور جاپانی اب بھی اگر چاہیں تو ہندوستان کے شہروں پر بمباری کر سکتے ہیں۔اور آجکل کی بمباری بھی نہایت خطرناک ہے۔ہمارے بعض دوستوں نے ملایا میں بمباری دیکھی ہے ان کا بیان ہے کہ بمباری کیا ہے گویا ایک جہنم کا دروازہ کھل گیا ہے۔امریکہ کتنی بڑی طاقت تھی مگر جاپان نے یک دم حملہ کر کے اس کے بیڑے کو سخت نقصان پہنچا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ جو طاقت امریکہ جیسی بڑی بڑی حکومتوں کو اس طرح نقصان پہنچا سکتی ہے اُس کا مقابلہ ہندوستانی کیا کر سکتے ہیں۔اب لڑائی اتنی قریب آگئی ہے کہ پانچ چھ دن میں موٹروں اور ٹینکوں کی لڑائی کلکتہ میں پہنچ سکتی ہے۔ہندوستان کی آبادی بے شک بڑی ہے اور بعض کا نگرسی یہ کہا کرتے ہیں کہ اگر تمام ہندوستانی پیشاب کریں تو انگریز اس میں بہہ جائیں مگر یہ سب باتیں ہیں مقابلہ صرف وہ قوم کر سکتی ہے جو ہتھیار رکھتی اور انہیں چلانا جانتی ہے اور دلیر اور بہادر بھی ہو۔جس قوم اور ملک کی آبادی کا کثیر حصہ بُزدل، غیر مسلح اور بے ہنر ہو چکا ہو وہ کیا مقابلہ کر سکتی ہے۔ہندوستان میں بہت تھوڑی تو میں ہیں جو لڑ سکتی ہیں۔پنجاب، صوبہ سرحد اور یوپی کی بعض