انوارالعلوم (جلد 16) — Page 242
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور جا رہا ہے یہ زیادہ تفصیلی ہے اور اس وجہ سے خیال ہے کہ ضخامت بہت بڑھ جائے گی۔اور شاید پہلے دس پاروں کی دو کی بجائے تین جلدیں کرنی پڑیں اور دوسری جلد کو حصہ اول اور حصہ دوم میں تقسیم کرنا پڑے تا کہ تیسری جلد اپنی جگہ پر قائم رہے۔اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ مجلس شوری تک پہلی جلد مکمل ہو سکے۔۶- تفسیر کبیر تفسیر کبیر جو چھپوائی گئی تھی وہ ختم ہو چکی ہے بلکہ اب تو ہم بیرونی مشنوں کے لئے بعض جماعتوں سے اس کے نسخے خرید رہے ہیں کچھ حیدر آباد سے خریدے ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ جماعت کے معتد بہ حصہ نے اس کی اشاعت میں حصہ نہیں لیا۔اس کی اشاعت میں غیر احمدیوں کا بھی کافی حصہ ہے تین ہزار میں سے پانسو سے کچھ زائد غیر احمد یوں نے خریدی ہے اور باقی اڑھائی ہزار احباب جماعت نے۔مجھے افسوس ہے کہ جماعت کے دوستوں نے اس کی اشاعت کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔ہمارے دوسو سے اوپر طلباء لا ہور کے کالجوں میں پڑھتے ہیں انہیں جس طرح کا خرچ ملتا ہے اور جس طرح وہ گزارہ کرتے ہیں وہ مجھے خوب معلوم ہے کیونکہ میرے لڑکے بھی کالج میں پڑھتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان میں سے ہر ایک اس قابل تھا کہ ذرا قربانی کر کے تفسیر خرید سکتا۔اگر لاہور کے کالجوں کے احمدی طلباء ہی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے تو دوسو نسخے خرید سکتے تھے اور اگر پنجاب کے سارے احمدی طلباء توجہ کرتے تو صرف کالج کے طالب علموں میں ہی تین چار سو نسخے فروخت ہونے چاہئیں تھے اور اگر سکولوں کے سینئر طلباء کو بھی شامل کر لیا جائے تو ایک ہزار نسخے طلباء میں فروخت ہونے چاہئیں تھے۔مگر افسوس ہے کہ انہوں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی۔جو نو جوان انگریزی علوم اور مغربی فلسفہ پڑھتے ہیں ان کے لئے تو قرآن کریم کا سیکھنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔مغرب کے لغو فلسفے کی کتابیں تو عقل کو مار دینے والا زہر ہے اور اس کا تریاق قرآن کریم ہے اور جو لوگ اسے پڑھتے لیکن قرآن کریم سیکھنے سے غفلت کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص زہر تو کھائے مگر تریاق کی طرف توجہ نہ کرے اور جو والدین اپنے بچوں کے لئے تریاق کا انتظام نہیں کرتے وہ بھی سخت غفلت کرتے ہیں۔کیا عجیب بات ہے کہ دُنیوی کتابوں کا سوال ہو تو وہ سو سو روپیہ بھی صرف کر دیتے ہیں لیکن دین کا سوال ہو تو کہتے ہیں کہ چھ روپیہ قیمت بہت زیادہ ہے۔میرے لڑکے کالجوں میں پڑھتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ کالجوں کے طلباء کی کتابوں پر بعض جماعتوں میں سو سو روپیہ صرف ہوتا ہے اور دنیوی کتابوں پر اتنے روپے خرچ کرنے کے بعد جو لوگ چھ روپیہ