انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 238

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان سے اوپر اللہ تعالیٰ مگر ان میں سے کسی نے بھی حضرت خلیفہ المسیح الاول کو یہ خطاب نہیں دیا۔ ان میں سے کسی کی طرف سے یہ خطاب اگر آپ کو دہ دیا جاتا تو یہ آپ کی تعریف کہلا سکتی تھی مگر یہ تو اکبر شاہ خان نجیب آبادی نے آپ کو دیا تھا جو پہلے مرتد ہو کر پیغامی ہوا اور پھر وہاں سے بھی مرتد ہو کر غیر احمدی بنا اس لئے اول تو یہی بہت شرم کی بات ہے کہ ہم آپ کے لئے وہ خطاب استعمال کریں جس کا بانی ایک ایسا شخص : ہو جو احمدیت سے مر ہو کر مرا۔ پھر اگر تو ” اعظم“ کے معنے یہ ہیں کہ جو اپنے گھر میں بنے گھر میں بیوی بچوں میں سے سب سے بڑا ہو تو اس طرح تو دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو اعظم‘ نہ کہلا سکے ۔ لیکن ”اعظم“ کا لفظ تو ایک اصطلاح ہے جس کے معنے ایسے شخص کے ہیں جس سے بڑا چند صدیوں میں اس سے پہلے اور پیچھے نہ ہو۔ مثلاً سکندر اعظم کے معنے ہیں کہ چند صدیوں تک اُس کے آباء واجداد اور اُس کی کوئی سے مرند اولاد میں سے کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا۔ اسی طرح اکبر اعظم ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ چند صدیوں اب ۔ ان معنوں کے لحاظ سے 66 تک اس کے آباء واجداد اور اولاد میں سے کوئی اس جیسا نہیں ہوا۔ سے نور الدین اعظم ا کے معنے یہ بنتے ہیں کہ گویا آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی بڑے تھے اور آئندہ بھی چند صدیوں تک آپ جیسا بڑا کوئی نہ ہوگا ۔ اب دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ بات صحیح ہے؟ میں تو جب حضرت خلیفہ اول کے متعلق یہ لفظ جو ہے۔ لفظ ، 66 ایک مرتد کی طرف سے آپ کا خطاب ہے سنتا کا خطاب ہے سنتا ہوں تو سخت تکلیف ہوتی ہے کہ کہنے والے کو اتنا بھی احساس نہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے ایک شخص کو اعظم کہہ رہا یہ غلطی سب سے پہلے علامہ شبلی نے کی ہے جنہوں نے حضرت عمرؓ رت عمرؓ کے متعلق ” فاروق اعظم کا استعمال کیا جو بالکل غلط ہے۔ فاروق اعظم کہاں تھا وہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ ند علیه علیہ وآله وآلہ وسلم کی جوتیوں کا غلام تھا۔ ہمارے ملک میں یہ غلط رواج ہے کوئی شخص اگر طب کی ایک دو کتابیں پڑھ کر کسی گاؤں میں عطاری کی دُکان کھول لے تو پھر وہ ارسطو ئے زمان سے ادھر نہیں ٹھہرتا۔ وہ کسی گاؤں میں نیلوفر اور بنفشہ کی دُکان کرے گا مگر قلم اُٹھا کر اپنے آپ کو ارسطوئے زمان حکیم نتھوخان لکھے گا۔ اس سے نیچے اُتر نا وہ جانتا ہی نہیں ۔ ذرا کسی نے دو پہلوانوں کو گرا لیا تو پھر وہ رستم زمان سے کم کسی خطاب پر اکتفاء نہ کرے گا اور یہی وجہ ہے کہ ہر اینٹ اُٹھانے سے رستم ، ارسطو اور اعظم ہمارے ملک میں نکل آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بڑے آدمیوں کی تعریفوں کے لئے لوگ اس سے زیادہ مبالغہ کی ضرورت سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ جب ذلیل لوگ ارسطو اور سکندر