انوارالعلوم (جلد 16) — Page 8
انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب عورت خواہ وہ گریجوایٹ ہو یا مولوی، مردوں کا ذکر کرے گی تو آدمی کہہ کر کرے گی حالانکہ خدا تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں میں انسانیت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں رکھا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَ لُوْنَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا فرمایا اے مردو اور عور تو ! ہم تمہیں ایک بات بتاتے ہیں اسے یاد رکھو۔ تم پرکئی دفعہ مصیبتیں آتی ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عورت کا بچہ بیمار ہوتا ہے کبھی خاوند ، کبھی قرضہ ہو جاتا ہے، کبھی محلے والے دشمن ہو جاتے ہیں، کبھی تجارتوں میں نقصان ہو جاتا ہے، کبھی کوئی مقدمہ ہو جاتا ہے اُس وقت تمہیں بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے تم ادھر اُدھر پھرتے ہو کہ کوئی پناہ مل جائے ۔ کوئی دوست تلاش کرتا ہے، کوئی وکیل تلاش کرتا ہے، کوئی رشتہ دار کے پاس جاتا ہے فرماتا ہے اتنی تکلیف کیوں اُٹھاتے ہو؟ ہم تمہیں ایک آسان راستہ بتاتے ہیں وہ یہ کہ اِتَّقُوا رَبَّكُمْ ۔ تم اس تکلیف کے وقت اللہ تعالیٰ کو ڈھال کیوں نہیں بنا لیتے۔ چھوٹے بچے میں سمجھ نہیں ہوتی لیکن اس پر بھی جب مصیبت آئے تو سیدھا ماں کی طرف بھاگتا ہے۔ مگر بڑے آدمیوں کو دیکھو کوئی مشرق کی طرف جائے گا کوئی مغرب کی طرف، کوئی جنوب کی طرف اور کوئی شمال کی طرف اور ان میں یہ پرا گندگی پائی جائے گی۔ تو فرمایا کہ اے انسان! تو بچپن میں سمجھ نہیں رکھتا تھا تو ماں کی طرف بھاگتا تھا۔ اب تو تو جوان ہو گیا ہے اب اُس خدا کی طرف کیوں نہیں بھاگتا جس نے تجھ کو پیدا کیا۔ بچپن میں تمہیں خدا کی سمجھ نہیں تھی اب تو تم بڑے ہو گئے ہو تم کیوں یہ خیال کرتے ہو کہ تمہاری ماں تو تمہاری حفاظت کر سکتی تھی مگر خدا نہیں کر سکتا۔ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ اِن مصیبتوں کے وقت اپنے رب کو ڈھال بنا لیا کرو۔ اُس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا۔ ایک جان سے مراد مرد اور عورت کا مجموعہ ہے بعض لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ یہاں آدم اور حوا مراد ہیں کیونکہ آدم کی پسلی سے حوا پیدا ہو گئی ۔ اگر آدم کی پہلی سے توا پیدا ہوگئی تھی تو عورت کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت تھی ۔ ہمیشہ مرد کی پسلی سے بچہ پیدا ہو جاتا۔ تو نَفْسٍ وَاحِدَہ سے مراد یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک ہی چیز ہیں ۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے کہا لَنْ نَّصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ اے موسیٰ ! ہم ایک کھانے پر کفایت نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ وہ من اور سلوی دو کھانے کھاتے تھے لیکن چونکہ دونوں کو ملا کر کھاتے تھے اس لئے انہوں