انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 7

انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مستورات سے خطاب فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۴۰ء بر موقع جلسه سالانه قادیان) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - عورتوں کے متعلق ایک مسئلہ ایسا ہے کہ اگر اُسے رات دن عورتوں کے کان میں ڈالا جائے اور صبح و شام اُن کو اور مردوں کو اس کی اہمیت بتائی جائے تو بھی اس زمانہ کے لحاظ سے یہ کوشش تھوڑی ہو گی کیونکہ یہ مرض جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں ہزاروں سال سے دُنیا میں چلا آتا ہے اور جو مرض ہزاروں سال سے چلا آئے اُس کا ازالہ ایک دفعہ کہنے سے نہیں ہو سکتا۔مردوں اور عورتوں دونوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عورتیں مردوں سے علیحدہ چیز ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی ذمہ داریاں جو اُن پر عائد ہوتی ہیں اُن کی طرف یا تو وہ توجہ نہیں دیتیں یا اُن کو وہ اہمیت نہیں دیتیں جو دینی چاہئے۔یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس کی اہمیت کو جتنا بھی ظاہر کیا جائے اتنا ہی ان کے لئے فائدہ مند ہے۔میں نے دیکھا ہے یہ خیال اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ مرد یہ خیال کرتے ہیں کہ عورتیں کوئی الگ چیز ہیں اور عورتیں بھی اپنے آپ کو اُن سے علیحدہ چیز خیال کرتی ہیں۔عورتیں ہمیشہ آدمی کے معنے مرد لیتی ہیں۔اگر کسی مجلس میں مرد بیٹھے ہوں اور عورتوں سے پوچھا جائے کہ وہاں کون ہیں؟ تو جواب دیتی ہیں کہ آدمی بیٹھے ہیں حالانکہ آدمی کا مطلب انسانوں سے ہے اور جس طرح آدم کی اولاد مرد ہیں اسی طرح عورتیں۔پھر جب عورتیں بیٹھی ہوں تو مرد کہہ دیتے ہیں کہ کوئی آدمی اندر نہ آئے وہاں عورتیں بیٹھی ہیں اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ دو نسلیں ہیں۔ایک آدم کی دوسری شیطان کی۔جب مرد اپنے آپ کو آدم کی اور عورتوں کو شیطان کی ذریت قرار دیں گے تو وہ کیسے ترقی کر سکیں گی۔یہ خیال اتنا غالب آ گیا ہے کہ جب بھی پڑھی لکھی