انوارالعلوم (جلد 16) — Page 203
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔آخر میں مولوی صاحب نے طعنہ دیا ہے کہ تحریک جدید مولوی محمد علی صاحب کی طعنہ زنی بھی ہوئی، لاکھوں روپیہ بھی آیا، جائدادیں بھی بن گئیں ، خلافت جوبلی کا تین لاکھ روپیہ بھی ہاتھ آیا ، مولوی شیر علی صاحب ترجمہ لے کر ولایت سے بھی ہو آئے مگر ترجمہ نہ چھپ سکا۔مجھے اس منطق پر تعجب ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ترجمہ کی نسبت خواہش کا اظہار ازالہ اوہام میں کیا ہے۔اس کے بعد آپ اُنیس سال زندہ رہے اور آپ کے قول کے مطابق اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے لاکھوں روپیہ بھی بھجوایا پھر بھی ترجمہ شائع نہ ہوا جو وہاں جواب ہے وہی یہاں سمجھ لیجئے۔بات تو صاف ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح میں بھی انگریزی نہیں جانتا۔یوں کہو کہ نہ ہونے کے برابر جانتا ہوں۔آخر کسی دوسرے نے یہ کام کرنا تھا۔مولوی شیر علی صاحب کی صحت اچھی نہیں تھی وہ زیادہ کام نہیں کر سکتے اس لئے آہستہ آہستہ انہوں نے کام کیا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے کام تیار ہے مگر بعد کا کام ہو یا پہلے کا دیکھا یہ جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام میں جن خصوصیات کا ذکر کیا ہے وہ کس کے ترجمہ اور تفسیر میں ہیں۔ایک بات تو ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اردو میں پہلے تفسیر ہو، پھر اس کا ترجمہ ہو یہ امر ان کے ترجمہ میں ہے آپ کے ترجمہ میں نہیں۔کیونکہ انہوں نے میرے نوٹوں سے انتخاب کیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مضامین سے اخذ کیا ہے اور علی ان کے نام میں بھی ہے۔اگر علی کی تفسیر کی خواب کو مروڑ کر آپ اپنے اوپر چسپاں کریں تو وہاں بھی وہ چسپاں ہوتی ہے۔مگر یاد رہے کہ آپ کی تفسیر پر تو وہ رویا صادق آتی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ کوئی چھین کر ہماری تفسیر لے گیا ہے کیونکہ آپ نے اس تفسیر کو جس کے لئے آپ کو تنخواہ ملی تھی چھین کر لے گئے تھے اور پھر اسے ذاتی ملکیت قرار دیکر اس پر کمیشن لیتے رہے اور لیتے ہیں۔باقی رہا جائدادیں بننے کا سوال۔سو اگر سلسلہ کی جائداد مراد ہے تو سب سے پہلے آپ نے جائداد بنائی۔سکول بنایا، بورڈنگ بنایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مہمان خانہ بنایا۔اگر آمد والی جائداد ہو تو آپ کی انجمن نے پہلے مربعہ جات حاصل کئے۔اگر ذاتی جائداد کا طعنہ ہے تو پہلے آپ نے ڈلہوزی میں کوٹھی بنائی، پھر لاہور میں کوٹھی بنوائی۔اب رہا یہ کہ جب آپ کی جائداد کے بعد میں نے بھی کچھ جائداد بنائی تو وہ آپ کی جائداد سے زیادہ ہے تو اس میں میرا قصور نہیں اگر خدا تعالیٰ میرے مال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس دعا کے مطابق کہ دے اس کو عمر و دولت“ برکت