انوارالعلوم (جلد 16) — Page 191
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔سو یاد رکھنا چاہئے کہ ان معنوں کے رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں ہے۔اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اُس کو پکارا جائے؟ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔۔۔۔اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ گھلتے ہیں پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔‘،۸۶ یہ حوالہ خود واضح ہے اور اگر مولوی صاحب غور فرما ئیں تو حقیقت امر کو پاسکتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے دل سے اس غیظ کو دور فرمائے جو میری نسبت اور مبائعین کی نسبت ان کے دل میں پیدا ہو رہا ہے اور جو ان کو حقیقت پر غور کرنے سے مانع ہے۔مولوی صاحب غور تو فرمائیں کہ اگر اس حوالہ میں نبی کی جگہ محدث کا لفظ رکھا جائے تو عبارت یوں ہوتی ہے۔اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔۔اور محدث کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔اب کونسا معقول آدمی اس عبارت کو صحیح تسلیم کرے گا کہ محدث اسے نہیں کہتے ہیں کہ جس پر امور غیبیہ کثرت سے کھلتے ہیں اور پھر یہ کہ محدث کے لئے شارع ہونا شرط نہیں۔یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔ایک ہی سانس میں محدث کے نام کے لئے امور غیبیہ کی کثرت کا انکار اور کثرت سے امور غیبیہ کھلنے والے کی نسبت یہ کہنا کہ اس صفت کی وجہ سے وہ محدث نہیں کہلا سکتا اور دوسرے فقرہ میں اس پر اصرار کہ محدثیت ایک موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں ، کیا معقول ہو سکتا ہے اور کیا آپ اس فقرہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا پسند کرتے ہیں؟ اور پھر ان الفاظ پر بھی مولوی صاحب غور فرمائیں کہ نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔کیا اس میں نبی کی جگہ محدث کا لفظ رکھا جا سکتا ہے؟ کیونکہ یہ فقرہ اپنے دعوئی کے متعلق ہے