انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 186

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ وہ رسول نہ ہو۔ تو پھر غیب مصفے کی خبر اس کو مل نہیں سکتی ۔ اور یہ آیت روکتی ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کے رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے۔ بالضرور اس پر مطابق آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا ۔‘ کے ،، اور آپ نے آخری خط میں جو اخبار عام میں چھپا ہے یہ کیوں فرمایا۔ ” جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کر ۷۵۰، سکتا ہوں میں اس پر قائم ہوں اُس وقت تک جو اس دنیا سے گے دنیا سے گزر جاؤں ۔ مولوی صاحب آپ نے غور فرمایا کیا آپ کے الفاظ کہ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں ۔ حضرت مسیح ناصری کے اس قول کی طرز پر تو کلام نہیں کیا گیا۔ جس میں وہ فرماتے ہیں وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ اور کیا یہ تو اشارہ نہیں کہ میں اپنی زندگی میں تو اس دعوٹی سے پھرتا نہیں ۔ میرے مرنے کے بعد اگر بعض احمدی اس سے پھر جائیں تو میں ان کا ذمہ دار نہیں ۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے بعض حوالے نقل کئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہیں جن سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت تحریرات میں نبی سے مراد محدث سے مسیح موعود علیہ السلام کی حیات میں جہاں لفظ نبی آیا ہے اس سے مراد محدث ہے۔ مثلاً سراج منیر صفحہ ۴۳ سے ایک حوالہ درج کیا ہے جس کے بعض الفاظ یہ ہیں ۔ سو خدا کی اصطلاح ہے جو اس نے ایسے لفظ استعمال کئے ۔ ہم اس بات کے قائل اور معترف ہیں کہ نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ کوئی نیا نبی آ سکتا ہے اور نہ پُرانا۔ قرآن ایسے نبیوں کے ظہور سے مانع ہے مگر مجاز ہے مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا مرسل کے لفظ سے یاد کرے ۔۔۔۔۔ ،،