انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 2

انوار العلوم جلد ۱۶ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۰ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۰ء فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۴۰ ء بمقام قادیان) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - سب تعریف اللہ ہی کی ہے کہ جس نے آج سے ۵۲ سال پہلے دنیا کی اصلاح کے لئے قادیان میں ایک ایسے شخص کو اپنا پیغام دے کر بھیجا جس کی نسبت غیر تو الگ رہے اس کا اپنا باپ بھی یہ خیال کرتا تھا کہ یہ لڑکا نکھتا اور ناکارہ ہے اور اس کا خیال تھا کہ جہاں میرا بڑا بیٹا میرے کام کو جاری رکھے گا اور میرے خاندان کو قائم رکھنے کا باعث ہوگا وہاں یہ لڑکا اپنے خاندان کے نام کو بالکل مٹا دے گا۔پھر ایک ایسی بستی میں جس کو ضلع کے لوگ بھی نہ جانتے تھے اور ایسے علاقہ میں جو کہ پنجاب میں سے جاہل ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے ایسے علاقہ میں سے اور ایسی بستی میں سے اور ایسے انسانوں میں سے کہ ان میں سے ہر ایک دُنیا کی نگاہ میں حقیر سمجھا جاتا تھا ایک انسان کو چنا اور اسے فرمایا۔اُٹھ اور دنیا کو میرے نام سے باخبر کر ، لوگ میرے نام کو بھول چکے ہیں، دُنیا میں بسنے والے اس کام کی ذمہ داری کو فراموش کر چکے ہیں جو میری طرف سے ان کے سپرد کی گئی تھی، لوگوں نے دین کو بالکل بھلا دیا ہے، مذہب کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور حق وصداقت کو پھینک دیا ہے۔تو اٹھ اور ان کو پیغام پہنچا یہ مت خیال کر کہ تو اکیلا اور تنہا ہے، تو یہ مت خیال کر کہ تیرا کوئی ساتھی اور مددگار نہیں ہے۔فرمایا ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اور يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ ہم ضرور ایسے آدمی مقرر کریں گے جو تیری مدد کے لئے کھڑے ہوں گے اور ہم ان کے دلوں پر وحی نازل کریں گے۔خدا تعالیٰ نے جب اپنا یہ پیغام نازل کیا اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسے انسان