انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 161

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔استعارہ ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ابن مریم بے شک استعارہ ہے لیکن مسیح تو ایک عہدہ ہے وہ استعارہ کس طرح کہلا سکتا ہے۔مسیح کا لفظ تو اپنے اصل معنوں میں ہی مستعمل ہوا ہے۔لیکن صرف یہی لفظ تو اس حدیث میں نہیں جو بغیر استعارہ کے استعمال ہوا ہے۔اس کے سوا اور الفاظ بھی ہیں مثلا عِندَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاء " کے الفاظ ہیں۔ان میں کونسا استعارہ ہے۔منارہ بیضاء خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بنوا دیا ہے اسی طرح ارض کا لفظ بھی اس حدیث میں ہے۔طبریہ کا لفظ ہے۔ان سے مراد زمین اور طبر یہ ہی ہیں نہ کچھ اور۔ان کے علاوہ اور بھی کئی الفاظ اس حدیث میں ہیں جو ہرگز استعارہ نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ ” لفظ لفظ “ سے بلا استثناء سب الفاظ کو مراد لینا درست نہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس حدیث میں ایک آیت قرآنی بھی نقل ہے۔یعنی مِنْ كُلِّ حَدَبِ يُنْسِلُونَ کے ہر موج سمندر پر سے وہ قوم تیزی سے بڑھتی آئے گی۔کیا یہ بھی استعارہ ہی ہے اور کیا آپ نے اسے اپنی تفسیر میں استعارہ ہی قرار دیا ہے اور اگر استعارہ ہے تو پھر کیا یہ آیت بھی ساقط الاعتبار ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس حدیث کا کوئی ایک لفظ بھی استعارہ کے بغیر نہیں۔اگر مولوی صاحب جواب میں کہیں کہ یہ چونکہ آیت ہے اسے آیت کی تصدیق کی وجہ سے ساقط الاعتبار نہ کہا جائے گا تو میں کہتا ہوں کہ اسی طرح نبی اللہ کے لفظ کی چونکہ دوسرے کلام الہی سے تصدیق ہوتی ہے اسے بھی ساقط الاعتبار نہ کہا جائے گا۔اگر مولوی صاحب کو اصرار ہو کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لفظ لفظ لکھا ہے اس لئے میں تو لفظ لفظ کو ہی استعارہ قرار دوں گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام میں اس حدیث کو پورا نہیں نقل کیا بلکہ صرف ایک حصہ کو نقل کیا ہے اور دجال کے باب لڈ پر قتل ہونے تک کے واقعہ پر اکتفاء کی ہے۔پس کہا جاسکتا ہے کہ جو لفظ لفظ کے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمائے ہیں وہ اسی حصہ کے متعلق ہیں نہ کہ باقی کے متعلق۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر اس امر کا ثبوت کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس ساری حدیث کے ہر لفظ کو نہیں بلکہ اس کے اکثر حصہ کو استعارہ سمجھتے تھے۔مندرجہ ذیل حوالہ سے نکلتا ہے اور اس کے بعد کوئی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔آپ انجام آتھم صفحہ ۱۲۹ پر تحریر فرماتے ہیں:- وَأَمَّا مَاجَاءَ فِي حَدِيثِ خَيْرِ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ ذِكْرِ دِمَشْقَ وَغَيْرِهِ