انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 157

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔ضرورت ہے۔لیکن اگر مولوی صاحب ایک اور صرف ایک نبی اور وہ بھی امتی نبی کے آنے سے بھی باب نبوت کو کھلا سمجھتے ہیں اور ختم نبوت کو ٹوٹا ہوا تو پھر مولوی صاحب انصاف سے جواب دیں کہ یہ محرف فقرہ میری طرف منسوب کر کے بھی کہ ایک اور صرف ایک نبی اِس اُمت میں ہوگا وہ یہ اقبالی ڈگری میرے خلاف کیونکر دے رہے ہیں کہ میں باب نبوت کو مسدود سمجھتا ہوں۔پھر مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ”مگر ایسی کوئی حدیث ایسی کوئی حدیث نہیں جس پیش نہیں کی جس میں انبیاء کے آنے کا ذکر ہو۔“ جیسا کہ میں میں نبی کے آنے کا ذکر ہو او پر لکھ آیا ہوں ہم میں اور غیر مبائعین میں نزاع کی بنیاد یہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی کوئی اور نبی آئیگا ہاں نزاع کی بنیاد یہ ہے کہ اس وقت تک امت محمدیہ میں محدث آتے رہے ہیں صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی تھے۔اگر اس کو میں غلط سمجھا ہوں اور جناب مولوی محمد علی صاحب کو ایک نبی آنے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف ایسی صورت میں باپ نبوت کو کھلا اور ختم نبوت کو ٹوٹا ہوا خیال کرتے ہیں کہ اگر اس اُمت میں کئی انبیاء آئیں تو موجودہ زمانے کے لحاظ سے بحث ختم ہو جاتی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی تسلیم کر لیں اور اعلان کر دیں کہ ایک نبی کے آنے سے باپ نبوت کے مسدود ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا تو ہماری ان کی بحث ختم ہو جائیگی۔لیکن اگر وہ اس کے لئے تیار نہیں تو ان کا اس پر زور دینا کہ ایسی کوئی حدیث پیش نہیں کی گئی جس میں انبیاء کے آنے کا ذکر ہو کیا اثر رکھتا ہے اور اس کا ہمارے اختلافات کے طے کرنے میں کیا دخل ہو سکتا ہے۔آگے چل کر جناب مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ نواس بن سمعان کی حدیث کو میاں صاحب کو اعتراف ہے کہ بعض لوگوں نے اس حدیث کو جونواس بن سمعان نے بیان کی ہے اور جس میں آنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام والے مسیح موعود کو نبی کہا گیا ہے ضعیف قرار دیا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ اس حدیث کو حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) بھی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ضعیف ہی قرار دیتے ہیں اور اس کی تائید میں مولوی صاحب ازالہ اوہام صفحہ ۲۳۸ کا یہ حوالہ پیش فرماتے ہیں کہ وہ دمشقی حدیث جو امام مسلم نے پیش کی ہے خود مسلم کی دوسری حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے۔نیز یہ حوالہ کہ معلوم ہوتا ہے کہ امام مسلم