انوارالعلوم (جلد 16) — Page 150
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔یا تو وہ جنہوں نے مخالف کے اعتراضات کا جواب دینا ہو یا وہ جن کی غرض صرف زیادتی علم ہو۔پہلے گروہ کو تو کوئی روک ہی نہیں۔دوسرے لوگوں میں سے وہ جو پہلے اپنی کتب و رسائل اچھی طرح پڑھ چکے ہوں اور ان پر خوب عمدہ طور پر عبور رکھتے ہوں اور ان کا دل ایسے دلائل سے جو پھر کسی مزید تحقیقات کی ضرورت باقی نہ رکھتا ہوتسلی یافتہ ہو دوسرے ہر ایک مذہب کی کتاب کو پڑھ سکتے ہیں۔ان کو کوئی روک نہیں کیونکہ جسے باوجود اپنے مذہب کے مطالعہ کے ایسا شرح صدر عطا نہیں ہوا کہ جس کے بعد کسی اور مزید دلیل کی ضرورت نہ رہے اور عیا نا وہ اپنے مذہب کی سچائی کو نہیں دیکھتا اس کے لئے ضروری ہے کہ پوری تحقیق کرے تاکہ قیامت کے دن اس سے باز پرس نہ ہو۔اور یہ جو میں نے ایسے لوگوں کا استثناء کیا ہے جو عیاناً اپنے عقائد کی سچائی دیکھ چکے ہوں اور کسی مزید دلیل کے محتاج نہ ہوں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کا ان کتب کا مطالعہ کرنا لغو اور بے ہودہ فعل ہوگا کیونکہ انہوں نے جواب تو دینا نہیں اور ان کو مزید تحقیق کی ضرورت نہیں۔پھر وہ کیوں اپنے وقت کو ضائع کریں اور ممکن ہے کہ ان کو دیکھ کر بعض اور لوگ جو اپنے مذہب سے آگاہ نہیں ان کی تتبع کر کے تباہ ہوں۔اور اگر آپ فرما دیں کہ جب دوسرے مذاہب کا ان لوگوں نے مطالعہ نہیں کیا تو ان کو کیونکر معلوم ہوگا کہ وہ جس عقیدہ پر قائم ہیں وہی بجا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی مذہب کی صداقت معلوم کرنے کے لئے صرف یہی طریق نہیں کہ دوسرے خیالات سے اس کا مقابلہ کیا جائے بلکہ سچے عقیدے اپنے اندر بھی ایسی خوبیاں رکھتے ہیں کہ وہ اپنی صداقت پر آپ گواہ ہوتے ہیں اور ان کی صداقت کا انسان معائنہ کر سکتا ہے۔مثلاً اسلام اپنے اندر ایسی خوبیاں رکھتا ہے کہ بغیر اس کے کہ دوسرے مذاہب کا مطالعہ کیا جاوے اس کا ایک کامل پیرو اس کی صداقت پر تسلی پاسکتا ہے اور اس کے دلائل دے سکتا ہے ورنہ نَعُوذُ بِاللہ یہ ماننا پڑے گا کہ صحابہ کا ایمان کامل نہ تھا کیونکہ انہوں نے دیگر مذاہب کی تحقیق نہیں کی تھی۔بلکہ کوئی شخص