انوارالعلوم (جلد 16) — Page 149
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔تحریری دُہراتے رہتے ہیں۔جس جواب کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے وہ میرے رسالہ حقیقت الامر میں جس پر تاریخ تصنیف ۲۱ ستمبر ۱۹۱۸ لکھی ہوئی ہے شائع ہوا ہے اور اس کے صفحہ ۵ سے شروع ہوتا ہے۔میں اسے لفظ بہ لفظ اس جگہ نقل کر دیتا ہوں تا مولوی صاحب کو یاد آ جائے کہ وہ یہ اعتراض دیر سے کرتے چلے آتے ہیں اور میں اس کا تفصیلی جواب جسے ہر عقلمند مانے پر مجبور ہے ان کو دے چکا ہوں۔مگر افسوس کہ انہوں نے اس کے مطابق فیصلہ کی طرف کبھی توجہ نہیں کی بلکہ اعتراص دُہرانے تک اپنی کوشش کو محدود رکھا۔وہ جواب یہ ہے:۔مولوی صاحب! آپ شکایت فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے مریدوں کو منع کیا ہوا ہے کہ وہ آپ لوگوں کی کتابیں پڑھا کریں اور آپ چاہتے ہیں کہ میں اعلان کروں بلکہ حکم دوں کہ وہ ضرور آپ لوگوں کی کتابیں پڑھا کریں مگر میرے نزدیک یہ شکایت بے جا ہے۔میں نے بار ہا اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ وہ ہر ایک عقیدہ کو سوچ سمجھ کر قبول کریں بلکہ بار ہا یہ کہا ہے کہ اگر وہ کسی بات کو زید و بکر کے کہنے سے مانتے ہیں تو گو وہ حق پر بھی ہوں تب بھی ان سے سوال ہوگا کہ بلا سوچے انہوں نے ان باتوں پر کیونکر یقین کر لیا اور میرے خطبات اس پر شاہد ہیں ہاں ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ مخالف کی کتب کا مطالعہ کرے کیونکہ جب تک کوئی شخص اپنی کتب سے واقف نہیں اگر مخالف کی کتب کا مطالعہ کرے گا تو خطرہ ہے کہ ابتلاء میں پڑے۔ایک شخص اگر قرآن کریم تو نہ پڑھے اور انجیل اور دید اور ژرند اوستا اور ستیارتھ پرکاش کا مطالعہ رکھے اور کہے کہ میں تحقیق کر رہا ہوں تو کیا ایسا شخص حق پر ہوگا اور اس کا یہ عمل قابل تحسین سمجھا جاوے گا ؟ ہاں جو شخص اپنے مذہب سے اچھی طرح واقف ہو وہ دوسرے لوگوں کی باتوں کو بھی سن سکتا ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو ہمارے لٹریچر سے پوری طرح واقف نہیں اور جو مسائل مختلفہ میں کما حقہ میری کتب اور رسائل و اشتہارات اور دیگر واقف کاران جماعت کی کتب و رسائل کا مطالعہ نہیں کر چکے ہیں باقی کسی کو میں آپ کے لٹریچر کے پڑھنے سے نہیں روکتا اور نہ میں نے کبھی روکا ہے۔ہاں مطالعہ دوسری کتب کا ہمیشہ دو ہی شخص کیا کرتے ہیں