انوارالعلوم (جلد 16) — Page 148
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔۔نے ان کی اس تجویز کو رڈ کر دیا ہے اور ان کے خیالات کو اخبار میں لانے سے ڈر گیا ہوں اور نہایت زور سے جماعت احمدیہ پر یوں اتمام محبت فرماتے ہیں کہ :- اگر جناب میاں صاحب غور نہیں فرماتے تو ان کے مرید ہی غور کریں کہ اپنے دلائل کو کمزور کون شخص سمجھتا ہے۔وہ جو دوسرے کے دلائل کو اپنی جماعت کے سامنے آنے سے روکتا ہے یا وہ جو بار بار یہ سہل سی تجویز پیش کر چکا ہے (یعنی مولوی صاحب کا یہ مضمون اور میرا مضمون اکٹھا شائع ہو جائے ) افسوس مولوی صاحب مفسر قرآن ہیں اور قرآن کریم کی اس تعلیم کو پڑھتے ہیں کہ عدل وانصاف سے کام لینا چاہئے لیکن ابھی ان کا مضمون چھپا تک نہیں مجھے اس کے مضمون کا علم تک نہیں ہوا اور وہ جماعت مبائعین کے سامنے یہ حجت بھی پیش کرنے لگ جاتے ہیں کہ بتاؤ تمہارا خلیفہ سچا ہے جو میرا یہ مضمون چھاپنے کو تیار نہیں یا میں سچا ہوں جس نے اس کا خطبہ چھاپنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔میں حیران ہوں کہ دنیا کا کونسا انسان اس تحریر کو معقول قرار دے گا۔میں اس حصہ کا جواب پہلے دے چکا ہوں اور وہ ” الفضل“ میں شائع ہو چکا ہے۔(الفضل ۲۶ جولائی ۱۹۴۱ ء ) اور اب مختصر جواب اِس کا یہ ہے کہ میں الفضل ۱۴ را گست ۱۹۴۱ء میں جناب مولوی صاحب کا مضمون شائع کرا چکا ہوں اور آج اس کا جواب شائع کر رہا ہوں۔اب دیکھتا ہوں کہ جناب مولوی صاحب عام دستور کے مطابق میرا مضمون، اپنا جواب اور میرا جواب الجواب اپنے اخبار میں چھاپتے ہیں یا نہیں۔میں انصاف کے تقاضے کے مطابق ہرگز یہ نہیں کہتا کہ اے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء! آپ کا امیر سچا ہے جس نے میرا مضمون اخبار ”پیغام صلح میں نہیں شائع کیا یا میں جس نے آپ کے امیر کا مضمون اخبار الفضل“ میں شائع کر دیا ہے بلکہ میں مولوی صاحب کے عمل کا انتظار کروں گا اور اُن کے عمل کو دیکھ کر اگر ضرورت ہوگی تو اس کے متعلق کچھ لکھوں گا۔میں اس موقع پر اس امر پر اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مولوی صاحب کا یہ اعتراض کہ میں اپنی جماعت کو ان کا لٹریچر پڑھنے سے روکتا ہوں آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے اور میں اس کا جواب آج سے تیئیس سال پہلے بھی دے چکا ہوں اور ایسا جواب دے چکا ہوں کہ جسے ہر عقلمند صحیح تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا مگر مولوی صاحب موصوف نے اس آسان طریق فیصلہ کی طرف جو اس جواب کے آخر میں میں نے پیش کیا ہے کبھی بھی توجہ نہیں کی لیکن اعتراض کو وقتاً فوقتاً زبانی یا