انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 139

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ ”مرزائی“، مشہور ہے۔ کیا وہ اسے پسند کرتے ہیں کہ جماعت احمد یہ کے افراد کو خواہ مبائعین میں سے ہوں یا مولوی صاحب کے رفقاء میں سے ہوں احمدی کی جگہ قادیانی یا مرزائی کہا جائے؟ اگر نہیں تو ہماری جماعت کو اس نام سے پکارنا کیا لَا تَنَابَزُوا بِالالْقَابِ کے حکم کے ماتحت نہیں ؟ اور اگر وہ اسے بُرا نہیں سمجھتے تو پھر احمدی کہلانے کی ان کو ضرورت نہیں ۔ یوپی میں قادیانی اور پنجاب میں مرزائی نام عوام کی زبان پر بلکہ بہت سے خواص کی زبان پر جاری ہو چکا ہے مولوی صاحب کا لَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ کی آیت مجھے سنانے کی بجائے اپنے دوستوں کو سنانی چاہئے کیونکہ ہم تو اگر پیغامی یا غیر مبائع ان کو کہتے ہیں تو پھر بھی اس سے پیغامی احمدی یا غیر مبائع احمدی مراد لیتے ہیں لیکن ان کے رفقائے کار کی حالت مندرجہ ذیل حوالہ سے ظاہر ہے۔ پیغام صلح ۱۲ دسمبر ۱۹۱۷ء کے صفحہ ۲ پر لکھا ہے معلوم نہیں ”الفضل“ کو یہ کس نے بتا دیا کہ ہم نے بھی ان بھیڑوں کے قائمقام ہونے کا بھی دعوی کیا ہے جو اپنی عقل و فہم کو بالائے طاق رکھ کر اپنی تکمیل ایک شخص کے ہاتھ میں دے چکے ہیں۔ اور نہ قرآن حدیث سے انہیں واسطہ ہے اور نہ به حضرت مسیح موعود کی تعلیمات سے ۔ ”الفضل“ کو مطمئن رہنا چاہئے کہ ہم نے کبھی ایسے لوگوں کے قائم مقام ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہم ان کو احمدی کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کا نام محمودی ہے احمدی نہیں“ کے خلاف نہ ہے میں جناب مولوی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ یہ تو آپ کے نزدیک لَا تَنَابَزُوا بِالالْقَابِ نہ ہوگا اور یقیناً یہ کلمات آپ اور آپ کے رفقاء کی او رفقاء کی اولوالعزمی“ پر دلالت کرتے ہونگے ۔ اور جس اسلام کے آپ پیرو اور مبلغ کہلاتے ہیں اس کی تعلیم کا ہلاتے ہیں اس کی تعلیم کا کوئی اچھا سا نمونہ دنیا کو دکھانے کے لئے“ لکھے گئے ہونگے کیا یہی وہ اسلامی نمونہ ہے جو آپ پیش کرتے ہیں اور تمام احمدی جماعت جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہزاروں صحابہ بھی شامل تھے ان کا نام بھیڑیں رکھ کر اور پھر ان کے ناکوں میں نکیلیں دے کر کس طرح لَا تَنَابَزُوا بِالالْقَابِ کے حکم پر عمل فرماتے ہیں؟ آپ غصہ میں آ کر اس کا یہی جواب دیں گے کہ بعض الفاظ جو ہماری جماعت کی طرف سے جواباً لکھے گئے ہوں اُنہیں پیش کریں ۔ لیکن یاد رہے کہ قرآن کریم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ اَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ اگر ایسے الفاظ جو جوابی طور پر لکھے گئے ہوں آپ پیش بھی کر دیں تو سوال یہ باقی رہ جاتا ہے ۔ کہ لَا تَنَابَزُوا بِالالْقَابِ کا طعنہ دیتے وقت آپ کو اپنے اور اپنے رفقاء کی اصلاح کا تو خیال رکھنا چاہئے تھا۔ جس چیز کو آپ گناہ قرار