انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 133

عراق کے حالات پر آل انڈیا ریڈیو سے تقریر انوار العلوم جلد ۱۶ کر دے۔جنگ کے قابل آدمی اپنے آپ کو بھرتی کے لئے پیش کریں، روپیہ والے لوگ روپیہ سے امداد دیں، اہلِ قلم اپنی علمی قوتوں کو اس خدمت میں لگا دیں اور جس سے اور کچھ نہیں ہو سکتا وہ کم سے کم دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس جنگ سے اسلامی ملکوں کو محفوظ رکھے اور ہمارے جن بھائیوں سے غلطی ہوئی ہے ان کی آنکھیں کھول دے کہ وہ خود ہی پشیمان ہو کر اپنی غلطی کا ازالہ کرنے میں لگ جائیں۔میرے نزدیک عراق کا موجودہ فتنہ صرف مسلمانوں کے لئے تازیانہ تنبیہہ نہیں بلکہ ہندوستان کی تمام اقوام کے لئے تشویش اور فکر کا موجب ہے کیونکہ عراق میں جنگ کا دروازہ کھل جانے کی وجہ سے جنگ ہندوستان کے قریب آ گئی ہے اور ہندوستان اب اِس طرح محفوظ نہیں رہا جس طرح پہلے تھا۔جو فوج عراق پر قابض ہے عرب یا ایران کی طرف سے آسانی سے ہندوستان کی طرف بڑھ سکتی ہے پس ہندوستان کی تمام اقوام کو اس وقت آپس کے جھگڑے بھلا کر اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر برطانوی حکومت کی امداد کرنی چاہئے کہ یہ اپنی ہی امداد ہے۔شاید شیخ رشید علی جیلانی کا خیال ہو کہ سابق عالمگیر جنگ میں عربوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ایک متحد عرب حکومت کے قیام میں ان کی مدد کی جائے گی مگر ہوا یہ کہ عرب جو پہلے ترکوں کے ماتحت کم سے کم ایک قوم تھے اب چار پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے ہیں بیشک انگریزوں نے عراق کو ایک حد تک آزادی دی ہے مگر عربوں نے بھی سابق جنگ میں کم قربانیاں نہ کی تھیں اگر اس غلطی کے ازالہ کا عہد کر لیا جائے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ سب اسلامی دنیا متحد ہو کر اپنے علاقوں کو جنگ سے آزا د ر کھنے کی کوشش کرے گی اور بالواسطہ طور پر اس کا عظیم الشان فائدہ انگریزی حکومت کو بھی پہنچے گا۔اس جنگ کے بعد پولینڈ اور زیکو سلواکیہ کی آزادی ہی کا سوال حل نہیں ہونا چاہئے بلکہ متحدہ عرب کی آزادی کا بھی سوال حل ہو جانا چاہئے جس میں سے اگر یمن ، حجاز اور نجد کو الگ رکھا جائے تو کوئی حرج نہیں مگر شام ، فلسطین اور عراق کو ایک متحد اور آزاد حکومت کے طور پر ترقی کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔انصاف اس کا تقاضا کرتا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ اس انصاف کے تقاضا کو پورا کر کے برطانوی حکومت آگے سے بھی زیادہ مضبوط ہو جائے گی۔الفضل ۲۷ مئی ۱۹۴۱ ء )