انوارالعلوم (جلد 16) — Page 132
انوار العلوم جلد ۱۶ کے صحرا میں پھیل جائے گی۔عراق کے حالات پر آل انڈیا ریڈیو سے تقریر اس فتنہ کا مقابلہ شیخ رشید علی صاحب یا مفتی یروشلم کو گالیاں دینے سے نہیں کیا جا سکتا ، انہیں غدار کہہ کر ہم اس آگ کو نہیں مجھا سکتے۔میں شیخ رشید صاحب کو نہیں جانتا لیکن مفتی صاحب کا ذاتی طور پر واقف ہوں میرے نزدیک وہ نیک نیست آدمی ہیں اور اُن کی مخالفت کی یہ وجہ نہیں کہ اُن کو جرمنی والوں نے خرید لیا ہے بلکہ اُن کی مخالفت کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ عظیم میں جو وعدے اتحادیوں نے عربوں سے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔ان لوگوں کو بُرا کہنے سے صرف یہ نتیجہ نکلے گا کہ ان کے واقف اور دوست اشتعال میں آجائیں گے کیونکہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپنے تجربے کی بناء پر دیانتدار سمجھتا ہے تو جب کوئی اس دوسرے شخص بددیانتی کا الزام لگائے تو خواہ جس فعل کی وجہ سے بددیانتی کا الزام لگایا گیا ہو بُرا ہی کیوں نہ ہو چونکہ اس پہلے شخص کے نزدیک وہ فعل بد دیانتی کے باعث سے نہیں ہوتا وہ اس الزام کی وجہ سے جسے وہ غلط خیال کرتا ہے اس دوسرے مجرم شخص سے ہمدردی کرنے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے افعال میں شریک ہو جاتا ہے۔پس ان ہزاروں لاکھوں لوگوں کو جو عالم اسلامی میں شیخ رشید اور مفتی یروشلم سے حُسنِ ظنی رکھتے ہیں ٹھو کر اور ابتلاء سے بچانے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ اس نازک موقع پر اپنی طبائع کو جوش میں نہ آنے دیں اور جو بات کہیں اس میں صرف اصلاح کا پہلو مد نظر ہو، اظہار غضب مقصود نہ ہوتا کہ فتنہ کم ہو بڑھے نہیں۔یادر ہے کہ اس فتنہ کے بارہ میں ہمارے لئے اس قدر سمجھ لینا کافی ہے کہ شیخ رشید علی صاحب اور ان کے رفقاء کا یہ فعل اسلامی ملکوں اور اسلامی مقدس مقامات کے امن کو خطرہ میں ڈالنے کا موجب ہوا ہے۔ہمیں ان کی نیتوں پر حملہ کرنے کا نہ حق ہے اور نہ اس سے کچھ فائدہ ہے اس وقت تو مسلمانوں کو اپنی ساری طاقت اس بات کے لئے خرچ کر دینی چاہئے کہ عراق میں پھر امن ہو جائے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ مسلمان جان اور مال سے انگریزوں کی مدد کریں اور اس فتنہ کے پھیلنے اور بڑھنے سے پہلے ہی اس کے دبانے میں ان کا ہاتھ بٹائیں تا کہ جنگ، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے دُور رہے اور ترکی ، ایران، عراق اور شام اور فلسطین اس خطرناک آگ کی لپٹوں سے محفوظ رہیں۔یہ وقت بحثوں کا نہیں، کام کا ہے اس وقت ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے ہمسایوں کو اس خطرہ سے آگاہ کرے جو عالم اسلام کو پیش آنے والا ہے تا کہ ہر مسلمان اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور جو قربانی بھی اس سے ممکن ہو ا سے پیش