انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 112

احمد بیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔انوار العلوم جلد ۱۶ مقابلہ میں عقلمند انسان افیون نہیں کھائے گا بلکہ وہ کہے گا میں درد برداشت کرلوں گا مگر صحیح رنگ میں اپنا علاج کراؤ نگا اس صورت میں وہ بچ بھی جائے گا پس ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی پروا مت کرو۔تم کو خدا نے عظیم الشان کام کے لئے پیدا کیا ہے مگر تمہاری مثال بعض دفعہ ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسے مشہور ہے کہ کشمیر کے مہاراجہ نے ڈوگروں کی فوج کے علاوہ ایک دفعہ کشمیریوں کی بھی فوج بنائی مگر اس سے وہ کشمیری مراد نہیں جو پنجاب میں رہتے ہیں اور جو ہر لڑائی میں ڈنڈالے کر آگے آ جاتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں کشمیری آکر بہادر ہو جاتا ہے اور کشمیر میں پنجابی جا کر بُزدل ہو جاتا ہے بہر حال مہاراجہ نے کشمیریوں کی بھی ایک فوج تیار کی۔ایک دفعہ سرحد پر لڑائی ہوئی اور گورنمنٹ برطانیہ کو مختلف راجوں مہاراجوں نے اپنی اپنی ریاستوں کی طرف سے فوجی امداد دی۔کشمیر کے مہاراجوں نے بھی اس فوج کو سرحد پر جانے کا حکم دیا اور کہا ہم امید کرتے ہیں کہ تم اچھی طرح لڑو گے سالہا سال تو ہم سے تنخواہ لیتے رہے ہو اب حق نمک ادا کرنے کا وقت آیا ہے اس لئے تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم اس نازک موقع پر اپنے فرائض کو عمدگی سے سرانجام دو گے۔کشمیریوں نے جواب دیا کہ سرکار ! ہم نمک حرام نہیں ہم خدمت کے لئے ہر وقت حاضر ہیں مگر حضور کے یہ خادم سپاہی ایک بات عرض کرنا چاہتے ہیں۔لڑائی کا موقع تھا اور مہا راجہ ان کو خوش کرنے کے لئے تیار تھا اُس نے سمجھا اگر یہ راشن بڑھانے کا مطالبہ کریں گے تو راشن بڑھا دوں گا، تنخواہ میں زیادہ کا مطالبہ کرینگے تو تنخواہ زیادہ کردوں گا چنانچہ اس نے کہا بتاؤ کیا چاہتے ہو ؟ کشمیری کہنے لگے حضور! ہم نے سنا ہے پٹھان ذرا سخت ہوتے ہیں ہمارے ساتھ پہرہ ہونا چاہئے۔گویا وہ جان دینے کو تیار ہیں ، لڑائی پر جانے کے لئے آمادہ ہیں مگر کہتے ہیں پٹھان ذرا سخت ہوتے ہیں ساتھ پہرہ ہونا چاہئے۔وہ لوگ جو احمدیت میں داخل ہیں مگر پھر خیال کرتے ہیں کہ فلاں نے چونکہ ہمیں مارا پیٹا ہے اس لئے دوڑ و اور قادیان چل کر شکایت کرو وہ بھی درحقیقت ایسے ہی ہیں وہ بھی کہتے ہیں ہمارے ساتھ کسی ناظر کا پہرہ ہونا چاہئے ایسا تو سپاہی کہلانے کا مستحق نہیں ہو سکتا۔سپاہی وہی کہلا سکتا ہے جو بہادر ہوا اور ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔در حقیقت احمدیت قبول کرنا اوکھلی میں سر دینے والی بات ہے۔کسی نے کہا ہے اوکھلی میں سردینا تو موہلوں کا کیا ڈر یعنی جب اوکھلی میں سر دے دیا تو اس ڈنڈے کا جس سے چاول گوٹے جاتے ہیں کیا ڈر ہو سکتا ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص احمدیت میں داخل ہو تو اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت مجھ پر مصائب بھی آئے تو میں ان تمام خص