انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 107

انوار العلوم جلد ۱۶ نہیں کیا کرتا مگر گلے کی خراش اس سے مختلف چیز ہے۔احمد بیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔خدام الاحمدیہ کا یہ اجلاس اس لحاظ سے پہلا اجلاس ہے کہ اس میں باہر سے بھی دوست تشریف لائے ہیں گو میں نہیں کہہ سکتا کہ میں ان کے آنے کی وجہ سے پورے طور پر خوش ہوں کیونکہ جہاں تک مجھے علم ہے بہت کم دوست باہر سے آئے ہیں اور خدام الاحمدیہ کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔شاید گل تعداد کا چھٹا یا ساتواں یا آٹھواں یا نواں بلکہ دسواں حصہ آیا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس مجلس میں بیٹھنے والے اکثر دوست گورداسپور کے ضلع کے ہیں اور ان میں سے بھی اکثر زمیندار ہیں جن کے لئے پیدل سفر کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ان کا اس جگہ آنا زمینداروں کی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ان کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے بے شک ایک قابلِ قدر قربانی ہے مگر ان کے آنے کی وجہ سے اس مجلس کے افراد کی تعداد کا بڑھ جانا دوسرے شہروں کے خدام الاحمدیہ کے لئے کوئی خوشکن امر نہیں ہوسکتا۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اور اُن رپورٹوں سے جو میرے پاس پہنچتی رہی ہیں اندازہ لگا سکا ہوں گورداسپور کو چھوڑ کر بیر ونجات سے دواڑھائی سو آدمی آیا ہے اور یہ تعداد خدام الاحمدیہ کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت کم ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی قریب میں ہی جلسہ سالانہ گزرا ہے لیکن نوجوانوں کی ہمت اور ان کا ولولہ اور جوش ان باتوں کو نہیں دیکھا کرتا۔یہ جلسہ تو ایک مہینہ کے بعد ہوا ہے۔میں جانتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کئی نوجوان ایسے تھے جو لاہور سے ہرا تو ار کو با قاعدہ قادیان پہنچ جایا کرتے تھے۔مثلاً چوہدری فتح محمد صاحب اُن دنوں کا لج میں پڑھتے تھے مگر ان کا آنا جانا اتنا با قاعدہ تھا کہ ایک اتوار کو وہ کسی وجہ سے نہ آ سکے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھ سے پوچھا۔محمود! فتح محمد اس دفعہ نہیں آیا؟ گویا ان کا آنا جانا اتنا با قاعدہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے ایک اتوار کے دن نہ آنے پر تعجب ہوا اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ وہ کیوں نہیں آئے؟ وہ بھی کالج کے طالب علم تھے، کالج میں پڑھتے تھے اور ان کے لئے بھی کئی قسم کے کام تھے پھر وہ فیل بھی نہیں ہوتے تھے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ وہ پڑھتے نہیں ہوں گے۔پھر وہ کوئی ایسے مالدار بھی نہیں تھے کہ ان کے متعلق یہ خیال کیا جا سکے کہ انہیں اُڑانے کے لئے کافی روپیہ ملتا ہو گا۔میں سمجھتا ہوں لاہور کے کالجوں کے جو سٹوڈنٹس یہاں آئے ہوئے ہیں یا نہیں آئے ان میں سے نوے فیصدی وہ ہوتے ہیں جن کو اس سے زیادہ گزارہ ملتا ہے جتنا چوہدری فتح محمد صاحب کو ملا کرتا تھا مگر وہ با قاعدہ