انوارالعلوم (جلد 16) — Page 108
انوار العلوم جلد ۱۶ احمدبیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔۔ہرا تو ار کو قادیان آیا کرتے تھے۔اسی طرح اور بھی کئی طالب علم تھے جو قادیان آیا کرتے تھے گواتنی باقاعدگی سے نہیں آتے تھے مگر بہر حال کثرت سے آتے تھے۔اُس وقت لاہور میں احمدی طالب علم دس بارہ تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک دو کو مستقلی کرتے ہوئے باقی دس میں سے دو تین تو ایسے تھے کہ وہ ہفتہ وار یا قریباً ہفتہ وار قادیان آیا کرتے تھے اور نصف تعداد ایسے طالب علموں کی تھی جو مہینے میں ایک دفعہ یا دو دفعہ قادیان آتے تھے اور باقی سال میں چار پانچ دفعہ قادیان آ جاتے تھے اور بعض دفعہ کوئی ایسا بھی نکل آتا جو صرف جلسہ سالانہ پر آ جاتا تھا۔مگر اب صرف ہیں بچھپیں فیصدی طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو قادیان میں سال بھر میں ایک دفعہ آتے ہیں۔یا ایک دفعہ بھی نہیں آتے۔آخر یہ فرق اور امتیاز کیوں ہے؟ میں نے کہا ہے اگر ہماری مالی حالت ان لڑکوں سے کمزور ہوتی جو اُس وقت کالج میں پڑھتے تھے تو میں سمجھتا کہ یہ مالی حالت کا نتیجہ ہے۔اور اگر یہ بات ہوتی کہ اب تمہیں دین کے سیکھنے کی ضرورت نہیں رہی تمہارے لئے اس قدرا علیٰ درجہ کے روحانی سامان لاہور اور امرتسر اور دوسرے شہروں میں موجود ہیں کہ تمہیں قادیان آنے کی ضرورت نہیں تو پھر بھی میں سمجھتا کہ یہ بات کسی حد تک معقول ہے لیکن اگر نہ تو یہ بات ہے کہ تمہاری مالی حالت ان سے خراب ہے اور نہ یہ بات درست ہے کہ باہر ایسے سامان موجود ہیں جن کی موجودگی میں تمہیں قادیان آنے کی ضرورت نہیں اور پھر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ اب قادیان کا سفر بالکل آسان ہے یہ بات میری سمجھ سے بالکل بالا ہے کہ کیوں ہماری جماعت کے نوجوانوں میں اس قسم کی غفلت پائی جاتی ہے۔پہلے شام کی گاڑی سے ہمارے طالب علم بٹالہ میں اُترتے اور گاڑی سے اُتر کر راتوں رات پیدل چل کر قادیان پہنچ جاتے یا آٹھ نو بجے صبح اترتے تو بارہ ایک بجے دو پہر کو قادیان پہنچ جاتے تھے۔طالب علم ہونے کی وجہ سے بالعموم ان کے پاس اتنے کرائے نہیں ہوتے تھے کہ یکہ یا تانگہ لے سکیں۔ایسے بھی ہوتے تھے جو یوں میں آ جایا کرتے تھے۔مگر ایسے طالب علم بھی تھے جو پیدل آتے اور پیدل جاتے تھے مگر اب ریل کی وجہ سے بہت کچھ سہولت ہو گئی ہے۔ریل وقت بچا لیتی ہے، ریل کوفت سے بچا لیتی ہے ، اور ریل کا جو کرایہ آجکل بٹالہ سے قادیان کا ہے وہ اس کے کرایہ کے نصف کے قریب ہے جو اُن دنوں یکہ والے وصول کیا کرتے تھے۔اُس زمانہ میں ڈیڑھ دو روپیہ میں یکہ آیا کرتا تھا اور ایک یکہ میں تین سواریاں ہوا کرتی تھیں گو یا کم سے کم آٹھ آنے ایک آدمی کا صرف ایک طرف کا کرایہ ہوتا تھا مگر آجکل چھ سات آنے میں بٹالہ کا آنا جانا ہو جاتا ہے تو جو وقتیں مالی لحاظ سے پیش آسکتی تھیں یا وقت کے لحاظ سے پیش آ سکتی